غزہ میں کوئی امریکی فوجی داخل نہیں ہوگا، امریکی سینٹ کام کے سربراہ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
غزہ: امریکی سینٹ کام (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے واضح کیا ہے کہ غزہ میں کوئی امریکی فوجی داخل نہیں ہوگا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایڈمرل بریڈ کوپر نے غزہ جنگ بندی کے بعد علاقے کا دورہ کیا، جس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ اسرائیلی افواج کا طے شدہ علاقوں سے انخلا مکمل ہوا یا نہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ دورہ غزہ امن معاہدے کے بعد بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا تھا۔
غزہ سے واپسی پر سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ “غزہ امن منصوبے کی نگرانی کے لیے روانہ ہونے والے 200 اہلکاروں میں کوئی امریکی فوجی شامل نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “میرا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ سینٹ کام کی زیر قیادت سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر کس طرح قائم کیا جائے۔ یہ تمام کام امریکی افواج کی موجودگی کے بغیر انجام پائے گا۔
واضح رہے کہ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق غزہ امن معاہدے کی نگرانی کے لیے 200 اہلکاروں پر مشتمل بین الاقوامی فورس تشکیل دی گئی ہے جس میں مصر، قطر، ترکی اور ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات کے فوجی شامل ہوں گے۔
دوسری جانب غزہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد ہزاروں فلسطینی شہری اپنے گھروں کو واپس لوٹنے لگے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد امدادی اداروں نے ملبے تلے لاشوں کی تلاش شروع کر دی ہے، اور اب تک 155 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔
اس موقع پر حماس، اسلامی جہاد اور پاپولر فرنٹ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ غزہ کی گورننس خالصتاً فلسطین کا داخلی معاملہ ہے اور کسی غیر ملکی سرپرستی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔