تحریک تحفظ آئین پاکستان کا خارجی صورتحال پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
تحریک تحفظ آئین پاکستان کا خارجی صورتحال پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت سے خارجی صورتحال پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس فوری بلائے کا مطالبہ کردیا۔وفاقی دارالحکومت سے جاری ہونے والیاعلامیہ کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اجلاس محمود خان اچکزئی کی صدارت میں مصطفی نواز کھوکھر کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جس میں تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے رہنماوں نے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں ملک کی سیاسی و خارجی صورتحال اور اپوزیشن کی حکمت عملی پر غور کیا گیا، تحریک تحفظ آئین پاکستان نے افغانستان سے متعلق سعودی عرب کے موقف کی حمایت کی۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں شریک رہنماوں نے حکومت سے خارجی صورتحال پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس فوری بلائے کا مطالبہ کیا جبکہ خیبرپختونخوا میں وفاقی وزرا کی مداخلت کی مذمت کی۔اسی طرح رہنماوں کا کہنا تھا کہ غیر آئینی اقدامات سے صوبے کی سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہو گی، انتقالِ اقتدار اور وزیراعلی کا انتخاب تحریک انصاف کا آئینی و جمہوری حق ہے، تحریک نے وفاقی حکومت کو غیر آئینی اقدامات سے باز رہنے کا مطالبہ کیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا اراکین اسمبلی کو آزاد قرار دینے کا فیصلہ جمہوری اقدار کی نفی ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہارس ٹریڈنگ کو فروغ دینے کا واضح پیغام ہے، تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بلوچستان و خیبرپختونخوا میں بدامنی پر تشویش کا اظہار کیا۔علاوہ ازیں رہنماوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ساکھ مجروح کر چکے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومتیں مقامی عوام کی مشاورت سے امن و امان بہتر بنائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامن چاہتے ہیں لیکن پاکستان کی سالمیت یا شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وزیراعلی پنجاب مریم نواز امن چاہتے ہیں لیکن پاکستان کی سالمیت یا شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وزیراعلی پنجاب مریم نواز پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور موثر جواب دیا جائیگا ، وزیراعظم خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلی کا انتخاب کل کیا جائے گا، صوبائی اسمبلی کا اجلاس صبح 10 بجے طلب کراچی سمیت سندھ بھر میں دفعہ 144نافذ، احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں پر پابندی عائد،نوٹیفکیشن جاری وزیراعلی کا انتخاب،پی ٹی آئی نے ن لیگ سے تعاون مانگ لیا خیبرپختونخوا کی وزارت اعلی کیلئے4امیدوار سامنے آ گئے، کاغذات نامزدگی منظورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خارجی صورتحال پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس تحریک تحفظ آئین پاکستان کا مطالبہ کہ اجلاس
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔