رانا ثناء اللہ کی پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں کومیثاق استحکام پاکستان کیلئے اکھٹے بیٹھنے کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آباد : مشیر وزیراعظم اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق استحکام پاکستان کیلئے سر جوڑ کر بیٹھنے کی دعوت دے دی۔
فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مودی کے آپریشن سندور کے آلہ کار کے ٹھکانے ہمسایہ ملک میں آپریشنل تھے، ہمسایہ ملک کو بار بار تنبیہ کی جاتی رہی، کئی بار کہا کہ آپ کو پاکستان اور دہشت گردوں کے درمیان فیصلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کل جارحیت کا آغاز افغانستان سے ہوا، پاکستان کی مسلح افواج دفاع کیلئے پوری طرح تیار تھیں، جو ٹھکانے پاکستان کے خلاف آپریٹ ہوتے تھے ان کو مسلح افواج نے تباہ کیا، پوری قوم مسلح افواج کو سلام پیش کرتی ہے، پوری قوم کا سرفخر سے بلند ہوا ہے، پوری قوم کو خود پر ناز اور فخر کرنے کا موقع ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ فیلڈمارشل سیدعاصم منیر کی دلیرانہ لیڈرشپ سے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، معرکہ حق میں بھی فیلڈمارشل کی جرات مندانہ پالیسی کی وجہ سے قوم کو سر فخر سے بلند کرنے کا موقع ملا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے یوم آزادی پر کہا تھا آئیں میثاق پاکستان پر اکٹھے ہوجائیں، آج ہم نے چھپے ہوئے دشمن کو ٹھکانے لگایا اور منہ توڑ جواب دیا، آج ہمیں داخلی استحکام کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، تمام سیاسی جماعتوں، قائدین اور پارلیمنٹیرینز کو دعوت دیتا ہوں آئیں اور میثاق پاکستان پر سرجوڑ کر بیٹھیں۔
مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بے شک اپنے بیانیے پر قائم رہے لیکن آج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو، پی ٹی آئی آج شہدا کے ساتھ کھڑی ہو، آپ شہدا کے خون کو عزت دیں اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں، پی ٹی آئی بھی میثاق پاکستان کیلئے ساتھ بیٹھے۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا اس وقت پاکستان کی عسکری اور سفارتی قوت کو تسلیم کرتی ہے، پی ٹی آئی والے بھی پاکستان کی عسکری اورسیاسی قوت کا حصہ بنیں۔
سینیٹر کا کہنا تھا کہ جو مسلح افواج نے کل کارروائی کی وہ وقت کی ضرورت تھی، افغانستان کو بھرپور اور مؤثر جواب دیا گیا، جس مؤثر انداز سے جواب دیا گیا ایسے ہی بنتا تھا، اس موقع پر سیاسی قیادت کو بھی لبیک کہنا چاہیے، تمام جماعتوں کی غزہ کا مسئلہ کافی حد تک حل ہوچکا، مذہبی جماعت اپنا مارچ ختم کر دے
رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں اور قائدین سے میثاق استحکام پاکستان کی اپیل کی ہے، پی ٹی آئی کا نام لیکر کہا ہے کہ پاکستان اورمسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہوں، پی ٹی آئی کو آج کسی اگر مگر کے بغیر کہنا چاہیے کہ مسلح افواج کے ساتھ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اس ملک میں سیاست کرنا چاہتی ہے تو اگرمگر کے بغیر پاکستان اورمسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہو، پی ٹی آئی اگر پاکستان،مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہو تو آگے جا کر ان کیلئے بھی اسی میں سے کوئی راستہ نکل آئے گا۔
مسلح افواج کا ملک کیلئے بھرپور دفاع ہی پاکستان کی بقا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مسلح افواج کے ساتھ کے ساتھ کھڑی ہو رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پی ٹی ا ئی ج کے ساتھ ان کیلئے جواب دیا نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔