گوگل میپس میں جیمنی اے آئی نے اسسٹنٹ کی جگہ لے لی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
گوگل نے اپنے مختلف ایپس اور سروسز میں اسسٹنٹ کی جگہ نیا جیمنی اے آئی اسسٹنٹ متعارف کرانا شروع کر دیا ہے۔
اینڈرائیڈ اتھارٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق گوگل میپس کے نئے بیٹا ورژن میں جیمنی کو شامل کر لیا گیا ہے۔ اب جب صارف نیویگیشن انٹرفیس کے اوپری دائیں کونے میں موجود مائیکروفون آئیکون پر کلک کرتا ہے تو گوگل اسسٹنٹ کے بجائے جیمنی جواب دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیگما اور گوگل میں شراکت، جیمنی اے آئی اب ڈیزائن پلیٹ فارم کا حصہ
ابتدائی طور پر مائیکروفون آئیکون گوگل اسسٹنٹ کے روایتی رنگ میں رہتا ہے، لیکن کلک کرنے پر جیمنی کا مخصوص چمکتا ہوا اسپارک آئیکون ظاہر ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جیمنی اب وہ نیویگیشن فیچرز انجام دے سکتا ہے جو پہلے گوگل اسسٹنٹ میں ممکن نہیں تھے۔
مثلاً، صارف اگر جیمنی کو ٹول روٹس سے بچنے کی ہدایت دے تو وہ راستہ خودکار طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ جیمنی نیویگیشن سے ہٹ کر موسم جیسی معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل نے جی میل اور دیگر سروسز کے لیے اے آئی ماڈل متعارف کروا دیا
یہ فیچر فی الحال تمام صارفین کے لیے دستیاب نہیں، تاہم توقع ہے کہ آئندہ دنوں میں اسے عالمی سطح پر متعارف کرایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news جیمنی اے آئی گوگل اسسٹنٹ گوگل میپس نیویگیشن انٹرفیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جیمنی اے ا ئی گوگل اسسٹنٹ گوگل میپس جیمنی اے ا ئی گوگل اسسٹنٹ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔