دو سال بعد ٹائٹن آبدوز حادثے کی اصل وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: بحر اوقیانوس کی گہرائیوں میں تباہ ہونے والی آبدوز ٹائٹن سے متعلق امریکا نے اپنی حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ حادثہ ناقِص انجینئرنگ اور حفاظتی کوتاہیوں کا نتیجہ تھا۔
امریکی ادارے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) کی رپورٹ کے مطابق، جون 2023 میں ٹائی ٹینک کے ملبے کی جانب سفر کے دوران آبدوز کے تباہ ہونے کی بنیادی وجہ اس کے کاربن فائبر ڈھانچے کی کمزور پائیداری تھی، جو سمندری دباؤ برداشت نہیں کر سکا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ آبدوز تیار کرنے والی کمپنی اوشین گیٹ نے آبدوز کو روانگی سے قبل مکمل ٹیسٹنگ نہیں کی تھی اور نہ ہی حفاظتی اصولوں پر عمل کیا۔ کمپنی کو آبدوز کی حقیقی طاقت اور دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کے بارے میں علم ہی نہیں تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کمپنی کے بانی اسٹوکٹن رش نے اپنے ایک ملازم کی جانب سے اُٹھائے گئے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ “اگر کوسٹ گارڈ مسئلہ بنے تو میں ایک کانگریس مین خرید لوں گا۔”
رپورٹ کے مطابق، حادثے کے بعد ایمرجنسی رسپانس پروٹوکولز پر بھی عمل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے آبدوز کو جلد تلاش نہیں کیا جا سکا۔
این ٹی ایس بی کی یہ رپورٹ امریکی کوسٹ گارڈ کی اگست 2025 میں جاری کردہ رپورٹ سے مطابقت رکھتی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ آبدوز کے حفاظتی معیار انتہائی ناقص تھے اور انسپکشن میں مجرمانہ غفلت برتی گئی۔
امریکی حکام نے چھوٹی آبدوزوں کے لیے نئے قوانین بنانے کی سفارش کی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ 18 جون 2023 کو ٹائٹن آبدوز ٹائی ٹینک کے ملبے کی جانب جاتے ہوئے لاپتہ ہوئی تھی۔ آبدوز میں پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان سمیت پانچ افراد سوار تھے، جو سب ہلاک ہوگئے۔
یہ آبدوز کاربن فائبر اور ٹائٹینیم سے تیار کی گئی تھی اور اسے چلانے کے لیے ویڈیو گیم کنٹرولر استعمال کیا جاتا تھا۔
a.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔