Jasarat News:
2026-06-03@05:14:33 GMT

دو سال بعد ٹائٹن آبدوز حادثے کی اصل وجہ سامنے آگئی

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

دو سال بعد ٹائٹن آبدوز حادثے کی اصل وجہ سامنے آگئی

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: بحر اوقیانوس کی گہرائیوں میں تباہ ہونے والی آبدوز ٹائٹن سے متعلق امریکا نے اپنی حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ حادثہ ناقِص انجینئرنگ اور حفاظتی کوتاہیوں کا نتیجہ تھا۔

امریکی ادارے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) کی رپورٹ کے مطابق، جون 2023 میں ٹائی ٹینک کے ملبے کی جانب سفر کے دوران آبدوز کے تباہ ہونے کی بنیادی وجہ اس کے کاربن فائبر ڈھانچے کی کمزور پائیداری تھی، جو سمندری دباؤ برداشت نہیں کر سکا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ آبدوز تیار کرنے والی کمپنی اوشین گیٹ نے آبدوز کو روانگی سے قبل مکمل ٹیسٹنگ نہیں کی تھی اور نہ ہی حفاظتی اصولوں پر عمل کیا۔ کمپنی کو آبدوز کی حقیقی طاقت اور دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کے بارے میں علم ہی نہیں تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کمپنی کے بانی اسٹوکٹن رش نے اپنے ایک ملازم کی جانب سے اُٹھائے گئے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ “اگر کوسٹ گارڈ مسئلہ بنے تو میں ایک کانگریس مین خرید لوں گا۔”

رپورٹ کے مطابق، حادثے کے بعد ایمرجنسی رسپانس پروٹوکولز پر بھی عمل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے آبدوز کو جلد تلاش نہیں کیا جا سکا۔

این ٹی ایس بی کی یہ رپورٹ امریکی کوسٹ گارڈ کی اگست 2025 میں جاری کردہ رپورٹ سے مطابقت رکھتی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ آبدوز کے حفاظتی معیار انتہائی ناقص تھے اور انسپکشن میں مجرمانہ غفلت برتی گئی۔

امریکی حکام نے چھوٹی آبدوزوں کے لیے نئے قوانین بنانے کی سفارش کی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

واضح رہے کہ 18 جون 2023 کو ٹائٹن آبدوز ٹائی ٹینک کے ملبے کی جانب جاتے ہوئے لاپتہ ہوئی تھی۔ آبدوز میں پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان سمیت پانچ افراد سوار تھے، جو سب ہلاک ہوگئے۔

یہ آبدوز کاربن فائبر اور ٹائٹینیم سے تیار کی گئی تھی اور اسے چلانے کے لیے ویڈیو گیم کنٹرولر استعمال کیا جاتا تھا۔

a.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد