عوام نے تحریک لبیک اور پی ٹی آئی کی ہڑتال کی کال مسترد کردی، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عوام نے تحریکِ لبیک پاکستان اور تحریکِ انصاف کی احتجاجی کال کو مکمل مسترد کر دیا، ملک بھر میں کاروبار زندگی معمول کے مطابق رواں دواں رہا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ بے مقصد احتجاجی کالوں کا یہی انجام ہوتا ہے، عوام نے امن، استحکام اور ترقی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام متعلقہ اداروں اور چاروں صوبوں کے نمائندے شریک تھے تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے حالانکہ وہ اسلام آباد میں موجود تھے، ان کی نمائندگی مزمل اسلم نے کی جنہوں نے تفصیلی گفتگو کی اور اپنا موقف پیش کیا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ صوبے کے امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال پر بات چیت کے ایسے اہم موقع پر وزیراعلیٰ کا غیر حاضر رہنا افسوس ناک ہے، یہ ان کی سیاسی سنجیدگی کی عکاسی نہیں کرتا، اجلاس میں سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کا ذکر بھی کیا گیا جبکہ پولیس شہداء کے لئے جاری معاوضہ پروگرام پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو شاید سوشل میڈیا پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا شوق ہو مگر عوام کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے اجلاس میں بیٹھ کر بات کرنا ہی ذمے دار قیادت کا تقاضا ہے ایسے رویوں سے صوبے کے عوام ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ٹی ایل پی اور پی ٹی آئی کی ہڑتال اور احتجاجی کال کو عوام، تاجروں اور کاروباری برادری نے مکمل طور پر رد کر دیا، نہ کوئی مظاہرہ ہوا، نہ ہی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، بازار اور مارکیٹیں معمول کے مطابق کھلی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام آج غزہ اور فلسطین کے معاملے پر متحد ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حق میں اصولی اور مضبوط مؤقف اپنایا ہے، پاکستان نے ہر عالمی فورم پر اسرائیلی مظالم کی بھرپور مذمت کی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔