Jasarat News:
2026-07-24@09:02:39 GMT

طلبہ یونین پر پابندی: وجوہات، حقائق اور اثرات

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251018-03-3

 

 

صاحبزادہ وسیم حیدر

 

 

پاکستان میں طلبہ یونین پر پابندی اس جواز کے تحت عائد کی گئی کہ ان کی سرگرمیوں سے تعلیمی اداروں میں تشدد فروغ پاتا ہے۔ تاہم یہ مؤقف ابتداء ہی سے حقیقت کے منافی تھا اور دراصل طلبہ کی اجتماعی آواز اور نمائندگی کو دبانے کے لیے یہ پابندی عائد کی گئی۔ 2004 میں ایک تحقیقی مطالعہ (Research Study) کیا گیا، جس میں اس الزام کو سائنسی انداز میں جانچنے کی کوشش کی گئی۔ یہ تحقیق یونیورسٹی رپورٹس اور اخباری ریکارڈز پر مشتمل تھی، جس میں دو ادوار کا تقابلی جائزہ لیا گیا: 1۔ طلبہ یونین کے فعال دور (1947 سے فروری 1984 تک تقریباً 36 سال) 2۔ طلبہ یونین پر پابندی کے بعد کا دور (فروری 1984 سے 2004 تک تقریباً 20 سال)

اس تحقیق کے نتائج اس بیانیے کے برعکس تھے جس کی بنیاد پر یونین پر پابندی لگائی گئی۔ یعنی یہ تاثر کہ طلبہ یونین کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں تشدد ہوتا تھا، اعداد و شمار اس کی تردید کرتے ہیں۔ بلکہ تحقیق سے ثابت ہوا کہ یونین پر پابندی کے بعد تعلیمی اداروں میں نہ صرف تشدد میں بلکہ دیگر کئی خرابیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔

ریسرچ کے مطابق: • یونین کے 36 سالہ دور میں 13 طلبہ تشدد کے واقعات میں جان سے گئے، جبکہ پابندی کے بعد کے 20 سال میں یہ تعداد بڑھ کر 165 طلبہ تک پہنچ گئی۔ • یونین کے دور میں 151 تصادم کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ پابندی کے بعد 525 تصادم پیش آئے۔ • یونین کے دور میں 110 طلبہ کو تعلیمی اداروں سے نکالا گیا، جبکہ پابندی کے بعد یہ تعداد 985 طلبہ تک جا پہنچی۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ یونین پر پابندی کے بعد تشدد اور بد نظمی میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ درحقیقت، اْس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو مستحکم رکھنے اور طلبہ کی سیاسی قوت کو منتشر کرنے کے لیے یونین پر پابندی عائد کی۔ اس سے پہلے ایوب خان کے خلاف تحریک چلی، تحریک ِ ختم ِ نبوت ہو یا کوئی اور عوامی مہم، ان سب میں طلبہ یونین نے کلیدی کردار ادا کیا۔ جنرل ضیاء کو یہ خدشہ تھا کہ کہیں طلبہ تحریک اْس کے خلاف بھی نہ اٹھ کھڑی ہو، اسی لیے اس نے طلبہ یونین پر پابندی لگا دی۔ بدقسمتی سے، جنرل ضیاء کے بعد آنے والی جمہوری حکومتوں نے بھی اس جمہوری روایت کو بحال کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا۔ انہوں نے صرف اعلانات اور بیانات تک خود کو محدود رکھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی اکثر سیاسی جماعتیں جمہوریت کے بجائے خاندانی سیاست کے تحت چلتی ہیں۔ ان جماعتوں کے رہنما نہیں چاہتے کہ طلبہ یونین کی بحالی سے سیاسی، جمہوری اور میرٹ کلچر کو فروغ ملے، کیونکہ اس سے ان کی خاندانی اجارہ داری اور سیاسی تسلط کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

طلبہ یونین پر پابندی کی ایک اور اہم وجہ اسلام پسند طلبہ تنظیموں کی تعلیمی اداروں میں نمایاں کامیابیاں بھی تھیں، جن میں پاکستان میں اسلامی جمعیت طلبہ سرفہرست ہے۔ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ شاید یہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ یونیورسٹیوں میں اسلام پسند قوتیں الیکشن جیتیں، کیونکہ نوجوانوں کی حمایت حاصل کرنے والی یہ قوتیں بالآخر ملک کی سیاسی سمت متعین کر سکتی تھیں۔ اس بات کی تائید مشہور زمانہ کتاب ’’The Clash of Civilizations and the remaking of world order‘‘ (تصنیف: Samuel P.

Huntington) میں بھی ملتی ہے، جہاں مصنف لکھتا ہے۔

“In most countries, fundamentalists winning control of students’ unions and similar organizations was the first phase in the process of political Islamization, with the Islamist ‘breakthrough’ in universities occurring in the 1970s in Egypt, Pakistan and Afghanistan, and then moving on to other Muslim countries. The Islamist appeal was particularly strong among students in technical institutions, engineering faculties, and scientific departments.” (صفحہ نمبر 112)

یہ اقتباس واضح کرتا ہے کہ اسلام پسند طلبہ کی سیاسی بیداری کو عالمی سطح پر بھی ایک ’’خطرہ‘‘ سمجھا گیا۔ یونین پر پابندی کے نتیجے میں نہ صرف تعلیمی اداروں کا معیار گرا بلکہ وہاں تشدد، منشیات اور حراسانی جیسے مسائل میں بھی اضافہ ہوا۔ یونین کے خاتمے کے بعد تعلیمی اداروں میں انفرا اسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کا نظام بھی برباد ہوا۔ مثلاً یونین کے دور میں ہر جامعہ میں ٹرانسپورٹ اور ہاسٹل کا بہترین نظام ہوتا تھا، لیکن آج صورتحال اس کے برعکس ہے۔ مثال کے طور جامعہ کراچی کی یونین کے دور میں وہاں طلبہ کے لیے 105 بسیں چلتی تھیں جبکہ آج بمشکل دو درجن بسیں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح جامعہ پنجاب، جامعہ پشاور اور قائداعظم یونیورسٹی میں آج بھی جتنے ہاسٹلز موجود ہیں، وہ زیادہ تر یونین کے دور میں قائم ہوئے۔

اس کے بعد نئے ہاسٹل بمشکل ہی بنائے گئے ہیں۔ طلبہ کسی بھی تعلیمی ادارے کے اہم اسٹیک ہولڈرز ہوتے ہیں۔ انہیں نظر انداز کر کے، اور اختیارات صرف چند انتظامی افراد تک محدود کر کے، مسائل میں مزید اضافہ ہی ہوتا ہے۔ یونین کے نمائندے اکثر حکومت سے فنڈز حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے، جبکہ آج انتظامیہ جو خود سرکاری ملازم ہوتے ہیں، حکومت سے کوئی مطالبہ مؤثر انداز میں نہیں کر سکتی۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر تعلیمی اداروں خصوصاً جامعات کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ آج پاکستان کی 266 جامعات میں سے کوئی بھی عالمی درجہ بندی کی ٹاپ 300 میں شامل نہیں۔ لہٰذا، ایک جمہوری و فلاحی ریاست میں، جہاں نوجوان آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں، انہیں ان کے بنیادی جمہوری پلیٹ فارم ’’طلبہ یونین‘‘ سے محروم رکھنا نہ صرف غیر دانشمندانہ ہے بلکہ قومی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے۔

صاحبزادہ وسیم حیدر

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: طلبہ یونین پر پابندی یونین پر پابندی کے تعلیمی اداروں میں یونین کے دور میں پابندی کے بعد کے لیے

پڑھیں:

نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے

امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی طلبہ سمیت دنیا بھر سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور ویزا کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔

نئی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟

نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو پہلے کی طرح اپنے پورے تعلیمی پروگرام کی مدت کے بجائے محدود مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی یا تحقیقی پروگرام اس سے زیادہ عرصہ لیتا ہے تو اسے امریکہ میں مزید قیام کے لیے الگ سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت کو بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی آئندہ منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگی۔

پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثرات

ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ۔ نئی پالیسی نافذ ہونے کی صورت میں ایسے طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اضافی ویزا کارروائی، مزید دستاویزات اور ممکنہ سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض طلبہ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

امریکی حکومت کا مؤقف

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور ایسے افراد کی مؤثر نگرانی کرنا ہے جو طویل عرصے تک امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی ویزا اوور اسٹے اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔

تعلیمی اداروں کے تحفظات دوسری جانب کئی امریکی جامعات اور تعلیمی ماہرین نے مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو بار بار ویزا کی تجدید یا مدت میں توسیع کے مراحل سے گزرنا پڑا تو اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ امریکی جامعات کی عالمی سطح پر کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طویل المدتی تحقیقی پروگراموں میں داخل طلبہ کے لیے یہ قوانین اضافی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل

لاہور کے 22 سالہ عاصم علی، جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے ماسٹرز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس مجوزہ پالیسی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔ عاصم کا کہنا ہے کہ ہم جیسے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ ہی ایک بہت بڑا مالیاتی جوا ہوتا ہے، جہاں بینک اسٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنے سے لے کر مہنگی فیسوں کی ادائیگی تک، سب کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر چار سال بعد دوبارہ ویزا کی تجدید کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو طلبہ پر ہر وقت ویزا ریجیکٹ ہونے اور لاکھوں روپے ڈوبنے کا خوف مسلط رہے گا۔ عاصم کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ جا کر بھی مستقبل غیر یقینی کا شکار رہنا ہے، تو پاکستانی طلبہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جیسے ممالک اب زیادہ بہتر اور محفوظ آپشن بن چکے ہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز، جو بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کی خواہشمند ہیں، اس پالیسی کو خاص طور پر تحقیقی طلبہ کے لیے ناانصافی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ پروجیکٹس اکثر چار سال سے زیادہ کا عرصہ لے لیتے ہیں اور لیب کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جس کی مدت کا پہلے سے سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

سمیرا کہتی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کو پہلے ہی انتظامی کارروائی اور سخت سیکیورٹی اسکریننگ کی وجہ سے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اگر تعلیم کے دوران بار بار اسی ذہنی اذیت اور کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑا، تو کسی بھی طالب علم کے لیے یکسوئی سے ریسرچ کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اب غیر ملکی ٹیلنٹ کا خیرمقدم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم پرویز خان کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ان جیسے محققین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کا باعث بنتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چونکہ ایک طویل المدتی تحقیقی سفر ہے، اس لیے محدود مدت کے ویزا کی پالیسی اور بار بار ویزا تجدید کے مراحل ان کی تعلیمی اور تحقیقی ٹائم لائنز کو بری طرح متاثر کریں گے۔ اب امریکی جامعات بھی طلبہ کی تحقیقی صلاحیت کے بجائے ویزا اسٹیٹس اور سخت امیگریشن ڈیڈ لائنز کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے علمی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

تاہم، پرویز خان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ خود پاکستانی طلبہ کی جانب سے اکیڈمک اور امیگریشن قوانین سے لاپروائی بھی ہے۔ بہت سے طلبہ امریکی تعلیمی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر سرقہ بازی یا چیٹنگ جیسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہوتا ہے بلکہ امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟

اس کے علاوہ، ورک پرمٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر غیر قانونی کام کرنا، یونیورسٹی کی جانب سے مطلوبہ فل ٹائم انرولمنٹ برقرار نہ رکھنا، یا محض قیام کو طول دینے کے لیے بلاوجہ اپنے تحقیقی موضوعات کو تبدیل کرنا ایسے عوامل ہیں جو امریکی حکام کے نزدیک شک کا باعث بنتے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ان تکنیکی اور قانونی معاملات میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ قوانین سے معمولی سی لاپروائی بھی اب ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئی ویزا پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پہلے سے زیادہ محتاط منصوبہ بندی، مکمل دستاویزات کی تیاری اور ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات بین الاقوامی طلبہ، بالخصوص پاکستانی طلبہ، پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا پاکستان پاکستانی طلبا نئی پالیسی ویزا

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت