برطانیہ کی مدارس کے طلبہ کو جدید تعلیم اور اسکالر شپ کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ نے مدارس کے طلبا کو جدید تکنیکی تعلیم اور ہنر کی فراہمی کے لیے پاکستان کو معاونت کی پیشکش کردی۔ نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی۔ برطانوی ہائی کمشنر نے اپنے ملک کی جانب سے مدارس کے طلباء کو جدید تکنیکی تعلیم اور ہنر کی فراہمی کیلیے پاکستان کو معاونت کی پیشکش کی۔ برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ مدارس سے فارغ التحصیل طلباء کو برطانیہ میں ایکسچینج پروگرامز اور اسکالرشپ فراہم کرسکتے ہیں، ملک بھر میں 18 ہزار سے زاید مدارس رجسٹرڈ ہیں، ان کے طلبہ کو جدید تکنیکی تعلیم فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت مدارس کے طلباء کو جدید تکنیکی تعلیم اور ہنر سکھائے جارہے ہیں۔ دریں اثناء پاکستان اور برطانیہ نے انتہاپسندی کے خاتمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق
کیا۔ وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان برطانیہ سے تعلقات کو گہری قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور آنے والے وقت میں اس تعاون کو مزید وسعت دینے کا منتظر ہے۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ریاستی سرپرستی میں ہونے والے ظلم و ستم میں اضافہ تشویش ناک ہے، پاکستان میں بسنے والے عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے پاکستانی ہمارے سماجی تانے بانے کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان نے بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلیے تمام شعبوں میں اقلیتوں کی شرکت کو بڑھانے کیلیے وسیع پیمانے پر مثبت اقدامات کیے ہیں، برطانیہ میں 20 لاکھ مسلمان اور 17 لاکھ ہندو مقیم ہیں، پاکستان اور برطانیہ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلیے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کو جدید تکنیکی تعلیم سردار محمد یوسف تعلیم اور نے کہا کہ مدارس کے نے والے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔