Jasarat News:
2026-06-03@05:37:16 GMT

سراج الدین حقانی کی نظربندی کیا طالبان بکھر گئے؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251019-03-7
افغان وزیر خارجہ ملا امیر متقی کے دورۂ بھارت کے بعد طالبان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی نظربندی یہ ظاہر کرتی ہے کہ افغان طالبان ان عناصر کو ذرا بھی برداشت نہیں کر رہے جن سے پاکستان کوئی رابطہ کر سکتا ہے۔ افغان طالبان کا خیال ہے کہ پاکستان اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے حقانی گروپ سے دوبارہ رابطہ کر سکتا ہے اور طالبان کو حقانی گروپ پر اعتماد کیوں نہیں ہے کہ وہ ملا ہیبت اللہ کی بات مانیں گے؟ یا پاکستان کی۔ اگرچہ اس نظر بندی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سراج الدین حقانی افغان طالبان کو پاکستان سے الجھنے سے روکتے رہے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں نظر بند کیا گیا ہے۔ اگرچہ کچھ ذرائع کے مطابق یہ وجہ بھی بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے ایرانی سفارت کاروں سے ملاقات کی تھی۔ یہ بات اس لیے سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک وزیر داخلہ تو سفارت کاروں سے ملاقات کر ہی سکتا ہے، اس میں اس کو نظر بند کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

لیکن بھارت کا خیال تھا پاکستان کے پاس بھی شاید یہی ایک آپشن ہے، جس کو استعمال کیا جا سکتا ہے بھارت نے اگر یہ مشورہ دیا ہے اور بھارت کے مشورے پر سراج الدین حقانی کو نظر بند کیا گیا ہے تو یہ طالبان کی سب سے بڑی حماقت ہے۔ اس لیے کہ اس سے طالبان کی اپنی قوت میں کمی آئے گی اور ان کے اپنے اندر متحارب گروپ بن جائیں گے جو ان کے اقتدار کو مزید کمزور کر دیں گے۔ اس لیے کہ طالبان سے اقتدار چھیننے کے لیے کئی قوتیں افغانستان میں سرگرم ہیں ان میں داعش بھی ہے اور شمالی اتحاد بھی، مذہبی قوتوں کا زور اب دنیا میں کم ہو رہا ہے۔ اس لیے وہ افغان مجاہدین جو سوویت یونین سے لڑے تھے ایک ماڈریٹ اسلامی افغانستان کے لیے زیادہ موزوں ہوں گے اور دنیا کی تمام قوتوں کے لیے قابل قبول بھی۔ طالبان اور داعش دونوں نہ اسلامی دنیا کے لیے قابل قبول ہیں اور نہ ہی سیکولر دنیا کے لیے۔ بھارت اگر افغانستان کو جنگ کی آگ میں مسلسل جلتا دیکھنا چاہتا ہے تو یہ بھول جائے کہ اب دنیا افغانستان میں کسی جنگ کو برداشت کرے گی، اب وقت کی ضرورت دنیا کو جنگوں سے نکالنے کی ہے نہ کہ مزید جنگوں میں ڈالنے کی، بھارت اگر جنگ کی آگ بھڑکائے گا تو اس آگ میں وہ خود جل کر راکھ ہو جائے گا اور دنیا سے کٹ کر رہ جائے گا اس کی حالت بھی آج کے افغانستان کے جیسی ہو جائے گی۔

افغان طالبان کی اندرونی کشمکش بہت بڑھ گئی ہے اور شاید ان کے درمیان مشاورت کا عمل بھی کم سے کم ہو گیا ہے۔ سراج الدین حقانی کی گھر پر نظر بندی اس کا ثبوت ہے اور اس کے اثرات جلدی سارے افغانستان میں نظر آئیں گے۔ افغانستان میں طالبان کی قیادت میں حالیہ پیش رفت نے ملک کی سیاسی و عسکری صورتحال میں ایک نیا موڑ دیا ہے۔ طالبان کے وزیر داخلہ اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کو طالبان کے امیر ہیبت اللہ کے حکم پر گھر پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام نے طالبان کے اندرونی سیاسی تنازعات کو بے نقاب کیا ہے اور اس کے وسیع تر اثرات خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک ایک عسکری و سیاسی تنظیم ہے، جس کی بنیاد جلال الدین حقانی نے رکھی تھی۔ یہ نیٹ ورک 1970 اور 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کا حصہ رہا اور بعد میں طالبان کی طاقتور شاخ کے طور پر ابھرا۔ حقانی گروپ نے خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں اپنے اثر رسوخ کو مستحکم کیا اور عسکری کارروائیوں میں مرکزی کردار ادا کیا۔ سراج الدین حقانی، جو جلال الدین حقانی کے بیٹے ہیں، آج بھی اس نیٹ ورک کی قیادت کر رہے ہیں اور طالبان حکومت میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ان کی موجودگی طالبان کی عسکری اور انتظامی طاقت کے لیے اہم سمجھی جاتی تھی۔

طالبان امیر کی جانب سے سراج الدین حقانی کی گھر پر نظر بندی دراصل طالبان کی قیادت کے اندرونی اختلافات اور طاقت کی کشمکش کا نتیجہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق حقانی گروپ نے طالبان کے باقی حصوں کے ساتھ علٰیحدگی کی سیاست اپنائی، یا امیر کی قیادت پر سوالات اٹھائے، جس کے باعث امیر نے انہیں روکا۔ گزشتہ چند ماہ میں حقانی نیٹ ورک کے ارکان اور طالبان کی دیگر شاخوں کے مابین ربط کمزور ہوتا دکھائی دیا ہے۔ یہ اقدام طاقت کی تقسیم میں عدم توازن اور طالبان کے اجارہ داری نظام کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی علامت ہے۔ سراج الدین حقانی کی نظر بندی کے بعد ان کے نیٹ ورک کے افراد کو کابل اور دیگر اہم حکومتی و عسکری مقامات کی سیکورٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ کابل افغانستان کا دارالحکومت اور سیاسی مرکز ہے، اور اس کی سیکورٹی حکمت عملی میں طالبان کی مرکزی وفاداریاں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ حقانی نیٹ ورک کا سیکورٹی سے نکالے جانا طالبان کی اندرونی صف بندی اور نئی حکمت عملی کے نفاذ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ طالبان کی قیادت نئے وفادار گروپوں کو سیکورٹی ذمے داریاں سونپنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اپنے کنٹرول کو مضبوط کیا جا سکے۔ اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ بھارت نواز طالبان یا ٹی ٹی پی کے لوگوں کو سیکورٹی پر تعینات کیا جائے۔ سیاسی اور عسکری نتائج پر مبنی یہ اقدام طالبان کے اندرونی اتحاد پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کی طاقت میں کمی سے طالبان کی طاقت ورانہ ساخت میں خلا پیدا ہو سکتا ہے، جو نئے بحران یا کشمکش کو جنم دے سکتا ہے۔ اس سے افغانستان میں سیکورٹی صورتحال پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے علاقے جہاں حقانی گروپ کا اثر رسوخ طاقتور ہے۔

حقانی گروپ کو ممکن ہے کہ دوبارہ پاکستان کی طرف سے کوئی سپورٹ ملے تاکہ ٹی ٹی پی کے حوالے سے بھی ان سے بات چیت ہو سکے اگرچہ حقانی گروپ نے پہلے ٹی ٹی پی کی سرپرستی کی تھی۔ علاوہ ازیں، حقانی نیٹ ورک کی سیکورٹی رولز سے علٰیحدگی سے طالبان کی عسکری صلاحیت پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں، کیونکہ یہ نیٹ ورک گزشتہ دو دہائیوں میں طالبان کی سب سے مضبوط عسکری شاخ رہا ہے۔ علاقائی اور عالمی ردعمل عالمی برادری اور خطے کے ممالک افغانستان میں اس تبدیلی پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک پر ماضی میں دہشت گردی کے الزامات رہے ہیں اور امریکا سمیت کئی ممالک نے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ اس نیٹ ورک کی کمزوری طالبان کے پالیسی اور اتحاد کا امتحان ہو سکتی ہے۔ پاکستان، ایران، چین اور روس جیسے پڑوسی ممالک اپنے قومی سلامتی کے مفادات کے حوالے سے اس صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ان ممالک کے لیے طالبان کی قیادت میں اصلاحات اور طاقت کی تقسیم کے عمل کا تعین اہم ہوگا، جو خطے کے امن اور استحکام پر اثر ڈال سکتا ہے۔ افغان طالبان میں بڑھتی ہوئی کشمکش اور سراج الدین حقانی کی گھر پر نظر بندی سے واضح ہوتا ہے کہ طالبان ابھی تک مکمل طور پر متحد نہیں ہیں۔ سراج الدین حقانی کی نظربندی اور حقانی نیٹ ورک کے طالبان کو سیکورٹی سے ہٹانے کے بعد طالبان کی قیادت کو نئی حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ داخلی اختلافات کو کم کیا جا سکے۔ یہ سیاسی واقعہ افغانستان میں طالبان حکومت کی پائیداری اور مستقبل کی سمت کے حوالے سے نئے سوالات اٹھاتا ہے۔ اس وقت سب کی نظریں طالبان کی آئندہ کارروائیوں اور داخلی امن و اتحاد کی بحالی پر ہیں۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سراج الدین حقانی کی نظر طالبان کی قیادت گھر پر نظر بند افغانستان میں حقانی نیٹ ورک میں طالبان کی افغان طالبان طالبان کی ا وزیر داخلہ اور طالبان حقانی گروپ نیٹ ورک کے نیٹ ورک کی طالبان کے رہے ہیں سکتا ہے اور اس کے لیے ہے اور گیا ہے اس لیے دیا ہے کیا جا

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی