Jasarat News:
2026-06-03@06:19:28 GMT

قاری محمد مصلح الدین صدیقی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251203-03-5
علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی ایک مثالی خطیب و امام تھے۔ انہوں نے بڑی سادہ زندگی گزاری۔ درالعلوم امجدیہ میں تدریس کے بعد واپس اپنی مسجد تک جانے کے لیے بس اور دیگن کا سفر کرتے تھے ماشاء اللہ پاکستان میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانؒ کے پیغام کو آگے بڑھانے میں جن ہستیوں نے بہت بڑا کام کیا اس میں سر فہرست قاری محمد مصلح الدین صدیقی کا نام ہے۔ ان کو بطور وکیل اس بات کی اجازت تھی کہ وہ مفتی اعظم ہند مولا نا محمد مصطفی رضا خان نوریؒ اور قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنیؒ سے جو لوگ بیعت ہونا چاہتے تھے انہیں بیعت کرانے کی آسانی قاری محمد مصلح الدین صدیقی سے رابطہ تھا۔ قاری محمد مصلح الدین صدیقی میمن علاقہ میں خطیب رہے اس لیے روانی سے چند جملے میمنی کے بھی بول لیا کرتے تھے۔ انجمن طلبہ اسلام کی ترقی میں جن لوگوں نے بہت زیادہ تعاون کیا۔ ان میں قاری محمد مصلح الدین صاحب کی دعائیں اور عملی تعاون بھی شامل حال تھا۔ پہلے آپ اخوند مسجد کھارادر میں امامت و خطابت کیا کرتے تھے لیکن جب میمن مسجد مصلح الدین گارڈن کے قاری ابوالبشر فارغ ہوئے تو چند نو جوانوں نے اس بات پر محنت کی کہ قاری محمد مصلح الدین صاحب کھوڑی گارڈن کی میمن مسجد میں خطیب و امام ہو جائیں اْس میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیر (حاجی حنیف طیب) سے بھی کام لیا۔ جب ان کا وصال ہوا تدفین کے بارے میں بھی لوگ ایک دوسرے سے بحث کر رہے تھے کہ ان کی تدفین کہاں ہوگی؟ تو میں نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس بحث کو ختم کرو، قاری مصلح الدین صاحب کو میمن مسجد مصلح الدین گارڈن میں مسجد کے پیچھے والی جگہ پر دفن کیا جائے گا۔ انتظامیہ کے معاملات مجھ پر چھوڑ دیں۔ میرے احباب بالخصوص جمیل بھائی کا تذکرہ ضرور کروں گا کہ جنہوں نے اس بات پر مزید بحث نہ ہونے میں عوامی رائے عامہ کو ہموار کیا۔

آپ کے والد گرامی مولانا غلام جیلانی قندھاری بھی اپنے دور کے ایک جید عالم تھے۔ قاری محمد مصلح الدین قادری نے حافظ ملت علامہ عبد العزیز مبارکپوری سے علمی استفادہ کیا ان کے علاوہ مولانا حامد رضا خان بریلوی اور مولانا امجد علی سے بھی اکتساب علم کیا۔ قاری صاحب حافظ قرآن تھے سلسلہ قادریہ میں آپ مولا نا امجد علی اعظمی مفتی اعظم ہند مصطفی خان بریلوی قادری اور مولانا شاہ محمد ضیاء الدین مدنیؒ کے خلیفہ مجاز کی حیثیت رکھتے تھے۔ قاری مصلح الدین 15 سال مولانا قاری مصلح الدین صدیقی رضویؒ میمن مسجد مصلح الدین گارڈن، جس کا پرانا نام کھوڑی گارڈن ہے، وہاں امامت و خطابت کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ میں وہاں عصر کی نماز پڑھنے گیا تو دیکھا کہ قاری صاحب سلام پھیر چکے تھے اور دعا کر رہے تھے۔ میں بھی دعا میں شریک ہو گیا۔ دعا کے بعد وہ لوگوں سے مصافحہ کرتے ہوئے، باہر مسجد کے صحن کی طرف آئے۔ وہاں میں نے ان کی دست بوسی کی اور دعا کی درخواست کی۔ قاری صاحب مسکرائے اور اس وقت انہوں نے کہا کہ حاجی صاحب! میں افغانستان میں افغانیوں کو اور پاکستان میں آپ کو مظلوم دیکھ رہا ہوں۔ میں نے عرض کی کہ حضرت آپ مجھے مظلوم دیکھ رہے ہیں تو میرے حق میں دُعا فرما دیجیے کہ اللہ مجھے صبر و استقامت عطا فرمائے، میرے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے دعائیہ کلمات کہے۔ پھر سوال کیا آپ نے عصر کی نماز ادا کرلی؟ میں نے بتایا کہ دیر ہوگئی تھی، ابھی نہیں پڑھی، سوچا آپ سے مصافحہ کرنے کے بعد پڑھ لوں گا۔ اس وقت علاقے کے کونسلر محمد یوسف قادری بھی وہاں موجود تھے۔

حاجی حنیف طیب سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قاری محمد مصلح الدین صدیقی کرتے تھے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے