اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ خبرنگار+ آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ) پاکستان نے چین کے تعاون سے نیا باب رقم کرتے ہوئے پہلا ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ کامیابی سے خلاء میں پہنچا دیا۔ پاکستان ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے حامل 10  سے 15 ملکوں میں شامل ہو گیا ہے۔ ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ ایچ ایس ون چین سے خلا میں روانہ کیا گیا۔ سپارکو کے دفتر میں سیٹلائٹ کی روانگی کے مناظر دکھائے گئے۔ سیٹلائٹ 28 منٹ میں مدار میں پہنچا۔ ترجمان سپارکو نے بتایا کہ پاکستان کا یہ مشن قومی خلائی پالیسی اور وژن 2047 ء کا ایک اہم سنگ میل ہے اور ایچ ایس ون انفراسٹرکچر میپنگ اور شہری منصوبہ بندی کیلئے نئی راہیں کھولے گا جبکہ ایچ ایس ون سیٹلائٹ سے زرعی منصوبہ بندی اور ماحولیاتی نگرانی میں انقلاب کی توقع ہے۔ چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان نے حکومت کی مضبوط معاونت پر شکریہ ادا کیا۔ HS-1  کے کامیاب لانچ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان خلائی ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ زمین، سبزے، پانی، شہری علاقوں کا تفصیلی تجزیہ کرے گا۔ جدید سیٹلائٹ سینکڑوں نوری بینڈز میں درست تصاویر حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حکومت پاکستان کی حمایت سے قومی منصوبہ حقیقت بن سکا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپارکو ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اپنا کردار مزید مستحکم کر رہا ہے۔ ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ پاکستان کے خلائی پروگرام میں بڑی پیش رفت ہے جو ملک کو پائیدار ترقی کیلئے ابھرتے ہوئے خلائی رہنمائوں میں شامل کرے گا۔ پاکستان کی جانب سے اس سال یہ خلا میں بھیجا جانے والا تیسرا سیٹلائٹ ہے۔ سٹیلایٹ کی اپنے مدار میں ٹیسٹنگ کو دو ماہ لگ سکتے ہیں جس کے بعد سیٹلائٹ مکمل فعال ہو جائے گا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستانی سائنسدانوں اور ٹیکنیکل ٹیم کو خلائی سنگ میل عبور کرنے پر مبارکباد دی ہے۔ علاوہ ازیں چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے پہلے ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ ’’ایچ ایس ون‘‘ کی خلا میں کامیاب روانگی پر قوم کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان جدید سائنسی تحقیق اور خلائی ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ دریں اثناء پاکستان نے ایک روبوٹ چاند پر بھیجنے پر کام شروع کر دیا۔ سپارکو کے جنرل مینجر ڈاکٹر عدنان اسلم نے بتایا کہ پاکستان اپنا ایک روبوٹ روور چاند پر بھیجنے کے مشن پر کام کر رہا ہے۔2028 ء سے پہلے اس مشن کو مکمل کرنے پر کام کیا جارہا ہے۔ پاکستانی خلا باز کو چاند پر اتارنے کے مشن پر بھی کام کیا جارہا ہے۔ فروری 2025 ء میں سپارکو نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کا چاند پر بھیجے جانے والا پہلا روور مشن 2028 ء میں روانہ کیا جائے گا۔ اس موقع پر روور کا نام رکھنے کے لیے سپارکو کی جانب سے ایک ملک گیر مقابلے کا بھی اعلان کیا گیا۔2028 ء میں چین کے چینگ ای 8  مشن کے ساتھ چاند پر پاکستان کا پہلا روور بھیجا جائے گا۔ اس روور کا وزن لگ بھگ 35 کلوگرام ہوگا اور چینی مشن کے ساتھ یہ چاند کے قطب جنوبی پر لینڈ کرے گا۔ چینگ ای 8 مشن کو چین کے Wenchang  سپیس سینٹر سے روانہ کیا جائے گا اور اس کی کامیابی کی صورت میں پاکستان چاند کی سطح پر روور بھیجنے والا چھٹا ملک بن جائے گا۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہمارا خلائی پروگرام نئی شناخت حاصل کر رہا ہے۔ سیٹلائٹ ماحولیاتی تحفظ میں مدد گار ہوگا۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ یہ کامیابی تاریخی سنگ میل ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہبازشریف نے چینی راکٹ لچیان 1 کے ذریعے پاکستان کے سیٹلائٹ کو زمین کے مدار میں کامیابی سے بھیجے جانے پر پاکستانی خلائی سائنسدانوں و انجینئرز کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے مقابلہ کرنے میں یہ پیش رفت ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ پاکستان اور چین کا باقی شعبوں کی طرح خلائی تحقیق میں تعاون مثالی اور کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اس مثالی تعاون کیلئے اپنے عظیم و دیرینہ دوست اور سٹرٹیجک شراکت دار چین کے مشکور ہیں۔ پاکستانیوں کے دل چینی قیادت عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ خلاء میں بھیجا جانے والا سیٹلائٹ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور جغرافیائی تغیر کے بارے تحقیق میں مددگار ثابت ہوگا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ پاکستان کا کہ پاکستان ایچ ایس ون سنگ میل چاند پر جائے گا چین کے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ