غزہ میں جنگی جرائم کیخلاف ہیومن رائٹس واچ کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ہیومن رائٹس واچ کے فلسطینی امور کے ڈائریکٹر نے غاصب صیہونی رژیم اور غزہ کے بارے دوغلے معیار کو ختم کرنیکا مطالبہ کیا ہے اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ فلسطین کے امور میں ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر عمر شاکر نے غاصب صیہونی رژیم اور غزہ کے حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے اختیار کردہ دوغلے معیار کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب چینل الجزیرہ کے ساتھ انٹرویو میں عمر شاکر کا کہنا تھا کہ اسرائیل، قابض رژیم ہونے کے طور پر، اپنے تمام فوجیوں و افسروں کے ہر قسم کے جنگی جرائم کا مکمل ذمہ دار ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ افراد جو فوجیوں کو حکم دیتے ہیں وہی ان کی مجرمانہ ذمہ داری (Criminal liability) بھی اپنی گردن پر اٹھاتے ہیں۔ اس حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے عمر شاکر نے مزید کہا کہ عالمی برادری نے غزہ کے حوالے سے دوہرا معیار اپنا رکھا ہے تاہم غزہ میں انصاف و احتساب کے حصول کے راستے ہنوز باقی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔