کراچی میں اندھی گولیاں لگنے سے بچوں اور لڑکی سمیت 4 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
شہر قائد میں اندھی گولیوں سے شہریوں کے زخمی ہونے کا سلسلہ جاری ہے، تازہ واقعات میں نوجوان لڑکی اور بچے سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے۔
نجی ٹی وی کے مطابق شہر میں نامعلوم سمت سے چلنے والی گولیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، شہر کے مختلف علاقوں میں نامعلوم سمت سے گولیاں لگنے کے واقعات میں نوجوان لڑکی سمیت 2 افراد زخمی ہوگئے۔
شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے فائرنگ کے واقعے میں 20 سالہ بسمہ دختر اختر علی زخمی ہوگئی جسے فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لیجایا گیا۔
اس حوالے سے شاہ لطیف ٹاؤن پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ سیکٹر 17 جی میں نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے پیش آیا۔
دوسرا واقعہ بلدیہ رشید آباد میں بھی نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے 30 سالہ حسن اللہ زخمی ہوگیا جسے فوری طبی امداد کے لیے سول اسپتال لیجایا گیا۔
ترجمان کراچی پولیس کے مطابق شرافی گوٹھ میں اٹک پمپ فیوچر کالونی کے قریب نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے 12 سالہ بچہ مبین ولد غلام رسول زخمی ہوگیا جس کو طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
ادھر ضلع غربی کے پیر آباد تھانہ کی حدود میں بلال مسجد کے قریب نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے10 سالہ بچہ شفیق ولد فیروز زخمی ہوگیا۔ زخمی بچہ کو طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس گولیاں لگنے کے واقعات کے حوالے سے مزید چھان بین کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: والی گولی لگنے سے طبی امداد کے لیے نامعلوم سمت سے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔