سپریم کورٹ کے سینئر ججز، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے ایک تفصیلی خط میں عدالتی ضابطہ اخلاق میں مجوزہ ترامیم اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر سنجیدہ اعتراضات اٹھائے ہیں۔ خط چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ارکان کو ارسال کیا گیا ہے۔
اہم نکات:
دونوں ججز نے خط میں کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سپریم جوڈیشل کونسل میں شمولیت غیر موزوں ہے، کیونکہ ان کے خلاف ایک اپیل زیرِ التوا ہے۔
اسی طرح، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی تعیناتی کے خلاف بھی ایک مقدمہ عدالت میں زیر غور ہے، اس لیے وہ خود بھی ضابطہ اخلاق میں ترامیم کے عمل سے علیحدہ رہیں تو بہتر ہوگا۔
خط میں الزام عائد کیا گیا کہ اس بار سپریم جوڈیشل کونسل کا آئینی طریقہ کارنظرانداز کیا گیا۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی میں شامل تین چیف جسٹسز نے پہلے ترامیم کی منظوری دی، پھر سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی انہی ترامیم کو منظور کیا — جو بقول ججز، آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔
ججز کی تشویش:
جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے خبردار کیا کہ:
مجوزہ ترامیم سےعدلیہ کی آزادی کو خطرہ ہے۔
ان سےشفافیت متاثر ہوگی اور اختیارات چند افراد تک محدود ہو جائیں گے۔
ترامیم کو بعض مخصوص ججز کی آواز دبانے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
خط کے آخر میں دونوں ججز نے لکھا کہ ملک اس وقت جمہوری دباؤ اور آئینی بحران کے دور سے گزر رہا ہے، اور ایسے حالات میں صرف ایک بے خوف، آزاد اور اصولوں پر قائم عدلیہ ہی عوام کے اعتماد کا مرکز بن سکتی ہے۔
یہ خط نہ صرف عدلیہ کے اندرونی معاملات کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں آئینی عمل، شفافیت اور آزادی کے اصولوں پر ایک نظریاتی اختلاف موجود ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس

پڑھیں:

فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار

فوٹو: آئی ایس پی آر 

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار  کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی جی ایچ کیو آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے ناپاک عزائم کو مسلح افواج کے مضبوط اور فیصلہ کن جواب اور عوام کے اتحاد سے ناکام بنادیا جائے گا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلوچستان کے متحرک، باہمت، ثابت قدم اور محبِ وطن عوام اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں بلوچستان میں دیرپا امن لائیں گی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ملک کے مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار