معروف اسٹائلسٹ اور میک اپ آرٹسٹ خاور ریاض نے ایوارڈ شوز میں اداکاراؤں کے مغربی طرزِ لباس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اکیڈمی ایوارڈز نہیں بلکہ ہمارے اپنے ملک کے ایوارڈز ہیں، اس لیے فنکاروں کو اپنی ثقافت اور روایات کی نمائندگی کرنی چاہیے۔

خاور ریاض نے حال ہی میں ’احمد علی بٹ‘ کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے معاشرتی رویوں، سوشل میڈیا کے اثرات اور شوبز انڈسٹری میں بڑھتی ہوئی منافقت پر کھل کر گفتگو کی۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا نے معاشرے کے ڈھانچے کو مکمل طور پر بدل دیا ہے، پہلے زمانے میں دکھاوے کا عنصر اتنا نمایاں نہیں تھا، لیکن اب ہر شخص نمائش اور ظاہری شان و شوکت میں مبتلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ ایسی باتیں اور حرکات کرتے ہیں جو دراصل ان کی حقیقت نہیں ہوتیں، یہاں تک کہ عبادت کے موقع پر بھی لوگ تصاویر اور ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔

خاور ریاض کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ نمائش نے معاشرے میں خود ترسی کو بڑھا دیا ہے، کیونکہ جو لوگ ان آسائشوں سے محروم ہیں وہ بھی انہیں حاصل کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں، جس کے باعث ٹک ٹاکرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا رجحان تیزی سے بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے جہاں ادیب، مفکر اور سائنسدان نظر آتے تھے، اب وہاں ٹک ٹاکرز یا انفلوئنسرز دکھائی دیتے ہیں۔

میک اپ آرٹسٹ نے ایوارڈ شوز میں اداکاراؤں کے مغربی طرزِ لباس پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اکیڈمی ایوارڈز نہیں بلکہ ہمارے اپنے ملک کے ایوارڈز ہیں، فنکار اپنے ملک کے نمائندے ہوتے ہیں، اس لیے انہیں اپنی ثقافت، لباس اور زبان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ بیرونی دنیا کو ایک مثبت تاثر ملے۔

انہوں نے فنکاروں کے انگریزی بولنے کے رجحان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اکثر ایوارڈ شوز میں فنکار خواہ مخواہ انگریزی بولنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ وہاں کوئی انگریز موجود بھی نہیں ہوتا۔

ان کے مطابق جب ناظرین انگریزی نہیں جانتے تو انگریزی بولنے کا مقصد صرف دکھاوا رہ جاتا ہے، جس سے عوام میں احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے۔

خاور ریاض کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پاکستانی غلط انگریزی بولے تو ہم فوراً اس کا مذاق اڑاتے ہیں، لیکن انگریز ایسا نہیں کرتے، وہ زبان کو صرف ایک ذریعۂ اظہار کے طور پر دیکھتے ہیں، ہمیں بھی یہی رویہ اپنانا چاہیے اور اپنی شناخت اور ثقافت پر فخر کرنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا خاور ریاض انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل