ہریانہ میں کشمیری ٹرک ڈرائیور عدم تحفظ کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق ان حملوں سے ٹرانسپورٹرز اور تاجروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جو اس شاہراہ کو تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کشمیری ٹرک ڈرائیوروں نے بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقے دمدال کے قریب ہائے وے پر رات کے وقت ہونے والی لوٹ مار کی مسلسل کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نامعلوم شرپسند دوران شب کشمیری گاڑیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان حملوں سے ٹرانسپورٹرز اور تاجروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جو اس شاہراہ کو تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ متعدد ڈرائیوروں نے بتایا کہ نقاب پوش افراد کے گروپ رات کے اندھیرے میں ٹرکوں کو روک کر نقدی، قیمتی اشیا اور سامان لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک متاثرہ ڈرائیور نے کہا کہ طویل فاصلے پر سفر کر کے روزی کمانے والوں کیلئے صورتحال خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہم اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت کرتے ہیں لیکن اس طرح کے واقعات نے ہماری زندگیوں اور کام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہر رات یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ کہیں حملہ نہ ہو جائے۔ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز نے ہریانہ انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہوں پر حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنائیں، رات کے اوقات میں گشت بڑھایا جائے، سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں اور مشترکہ چیکنگ کے نظام کو فعال بنایا جائے تاکہ اس مجرمانہ سرگرمی کو روکا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتے ہیں
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔