وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کراچی ایکسپو سینٹر میں وینٹیلیٹر کی نمائش کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
کراچی ایکسپو سینٹر میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان میں بننے والے وینٹیلیٹر کا افتتاح کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وینٹیلیٹر پہلے بیرونِ ملک سے آتے تھے۔ مشکل وقت میں قوم متحد ہو کر کارکردگی دکھاتی ہے۔ مشینری کی لائسنسنگ اب آن لائن ہے بدعنوانی کے مواقع کم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے کاغذی نظام میں رشوت و تاخیر عام تھی، اب سہولت فراہم کی گئی۔ جو طاقت ملی ہے اسے مثبت طور پر استعمال کریں تو باہر سے تباہی ممکن نہیں۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کی شعبہ صحت کو بھرپور سپورٹ حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہیلتھ کیئر پر ہمیں بہت کام کرنا ہے۔ ہیلتھ کیئرکو فعال کرنے میں ضلعی حکومت کو کام کرنا ہوگا۔ شعبہ صحت کی بہتری کے لئے دن رات کام کررہے ہیں، ہمارے ہاں لوگ ویکسین کو یہودی سازش کہتے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پوری دنیا میں بیماریوں سے بچاوُں کے لیئے ویکسین لگوائی جاتی ہے۔ کراچی کے اسپتال صوبائی حکومت کے پاس ہیں ہمارے پاس نہیں۔ اسلام آباد میں جناح میڈیکل کمپلیکس بنارہے ہیں۔ کراچی میں بھی جناح میڈیکل کمپلیکس بنانے جارہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔