جہیز سے متعلق فیملی لا ریفارمز کی جا رہی ہیں، سپریم کورٹ کی اصلاحات پر پیشرفت رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے عوام دوست عدالتی اصلاحات پر جاری پیش رفت رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہیز سے متعلق لا ریفارمز کی جا رہی ہیں جبکہ نئی اصلاحات کے تحت 24 ہزار 98 تصدیق شدہ فیصلے جاری کیے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے ٹیکنالوجی پر مبنی عوام دوست عدالتی اصلاحات پر تازہ پیش رفت رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد عدالتی نظام میں شفافیت، کارکردگی اور انصاف تک عوامی رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اہم اصلاحات میں مقدمات کا ڈیجیٹل نظام، ای فائلنگ، آن لائن کاز لسٹ اور مقدمات کی حقیقی وقت میں ٹریکنگ شامل ہے، ٹیکنالوجی کی مدد سے انصاف تک رسائی کے تحت شعبوں میں اصلاحات کی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالتی اصلاحات کے تحت ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، شفافیت میں بہتری، عوامی سہولت اور اصلاحاتی اقدامات شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق نئی اصلاحات کے تحت 24 ہزار 98 تصدیق شدہ فیصلے جاری کیے گئے، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے تحت 7 ہزار 242 الیکٹرونک بیان حلفی جمع کرائے گئے، 16 334 درخواستیں ای فائلنگ کے ذریعے دائر ہوئیں، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے تحت تا حال 54473 فیصلے ڈیجیٹائز کیے گئے اور عدالتی اصلاحات کے تحت 8735 کیو آر کوڈ والی ججمنٹس جاری کی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اصلاحات کے تحت جوڈیشل ڈیش بورڈ لانچ کیا گیا، نئی اصلاحات کے تحت سپریم کورٹ رولز 2025، ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی منظوری دی گئی، آن لائن فیڈ بیک سسٹم، اینٹی کرپشن ہاٹ لائن، عوامی سہولت مرکز انفارمیشن سیل، سمندر پار پاکستانیوں کے لیے سہولت سیل کا آغاز کیا گیا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ اصلاحات کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کا سیکریٹریٹ قائم کیا گیا، نئے رولز نوٹیفائی کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل اپنے چار اجلاسوں میں 130 شکایات نمٹا چکی ہیں، عدالتی اصلاحات کے تحت جوڈیشل کمیشن سیکریٹریٹ قائم کیا گیا، اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن رولز 2024 نوٹیفائی کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالتی اصلاحات کے تحت لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، بلوچستان ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تعیناتیاں کی گئیں، جوڈیشل کمیشن کے ذریعے نومبر 2024 سے اب تک 31 اجلاسوں میں 53 جج تعینات کیے جا چکے ہیں۔
سپریم کورٹ نے بتایا کہ جسٹس ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے 2026 تک تمام اضلاع میں سولرائزیشن، ای لائبریریوں کا قیام، خواتین کے لیے خصوصی سہولیات، واٹر فلٹریشن پلانٹ فراہم کیے جائیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا عدالتی اصلاحات کے تحت جہیز سے متعلق فیملی لا ریفارمز کی جا رہی ہیں، فیملی لا ریفارمز کے تحت نکاح نامے میں جہیز کا کالم شامل کرنے کے لیے اصلاحات جاری ہیں، اصلاحات کے تحت غیر رجسٹرڈ شادیوں کے خلاف جرمانے کی تجویز زیر غور ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مقدمات کی اسلام آباد منتقلی بھی اصلاحات میں شامل ہے، عدالتی اصلاحات کے تحت 23 ججز ٹریننگز، تین کورٹ اسٹاف ٹریننگز، پانچ بار ممبرز ٹریننگز، 9 اسٹیک ہولڈر ٹریننگز کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عدالتی اصلاحات کے تحت سپریم کورٹ لا ریفارمز ہائی کورٹ کیا گیا کیے گئے کے لیے
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔