کیا اسرائیل امریکہ کی مدد سے لبنان پر بڑے حملے کی تیاریوں میں ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
اسرائیلی فوج نے امریکہ کی براہ راست نگرانی میں لبنان کے اندر، خاص طور پر حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے اپنا کردار "ثالث" سے اسرائیل کے "شراکت دار" میں تبدیل کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی چینل کان نے صفد شہر میں غاصب صیہونی فوج کے شمالی کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر میں امریکی افسران کی موجودگی اور جنگ پر ان کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کا اعتراف کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ لبنان پر انجام پانے والا ہر حملہ امریکہ کی سبز جھنڈی سے انجام پا رہا ہے۔ یہ اقدام مغربی ایشیا خطے میں امریکہ کے کردار کی نوعیت میں واضح تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسے پس منظر میں اس طرح کے حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ معاملہ حزب اللہ لبنان پر حملے سے آگے بڑھ چکا ہے اور واشنگٹن، لبنان کے ساتھ جنگ بندی کی کوئی خواہش نہیں رکھتا بلکہ صرف حملوں کی رفتار کو ایک خاص سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس طرز عمل کی وجہ غاصب صیہونی رژیم اور اس کے اتحادیوں کی حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے میں مایوسی ہو سکتی ہے۔ خطے میں جاری معاملات پر کلی نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی رژیم اب کسی سیاسی حل کا انتظار نہیں کرنا چاہتی بلکہ بتدریج فوجی دباؤ کی طرف مائل ہو گئی ہے۔ البتہ اس کا مطلب فوری وسیع جنگ نہیں ہے بلکہ ایک نئی قسم کی "فرنٹ مینجمنٹ" سامنے آئے گی۔
یہ سب کچھ ایسے وقت ہو رہا ہے جب لبنان نے سرکاری اور غیر سرکاری طور پر محسوس کیا ہے کہ اب اس کی امریکی حکومت کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس حقیقت کا مشاہدہ ایک طرف امریکی نمائندوں کی طرف سے لبنان حکومت سے رابطے منقطع کر لینا اور اس کی پالیسیوں پر تنقید کی شدت میں اضافے سے جبکہ دوسری طرف آئی ایم ایف سے لبنان حکومت کے انتہائی خراب مذاکرات اور لبنان کی سرزمین پر صیہونی رژیم کے وسیع حملے کے بڑھتے ہوئے خطرے سے کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، کچھ لبنانی حلقے غاصب صیہونی رژیم کے اندرونی حلقوں کے ایسے فیصلوں کے بارے میں معلومات فاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی رژیم لبنان حکومت کی طرف سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں ناکامی کے ردعمل میں اپنا فوجی دباؤ بڑھانا چاہتی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے روزانہ حملوں اور لبنان کے اندر اس کی ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں کے تناظر میں بیروت سے متعلق صیہونی رژیم کی طے شدہ حکمت عملی میں تبدیلی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ ان ذرائع کے مطابق "میکنزم" کمیٹی اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ اس کمیٹی کے سربراہ نے بارہا دعوی کیا ہے کہ اسرائیل کے پاس "اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ حزب اللہ نے کئی بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔"
اسی سلسلے میں گزشتہ روز اسرائیلی نیوز چینل کان نے لبنان کے حوالے سے تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان موجودہ ہم آہنگی کے بارے میں معلومات کا انکشاف کیا ہے۔ اس اسرائیلی چینل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے: "غزہ میں ایک نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں، شمالی سرحدوں پر مختلف واقعات رونما ہو رہے ہیں۔" اس نیوز چینل کے فوجی نمائندے ایتائی بلومینٹل نے اعتراف کرتے ہوئے کہا: "امریکی، غزہ کی مانند شمالی سرحدوں پر بھی جنگ بندی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ کچھ امریکی افسران صفد میں شمالی محاذ کے کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر میں موجود ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غاصب صیہونی صیہونی رژیم لبنان حکومت اسرائیل کے حزب اللہ لبنان کے کیا ہے رہا ہے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔