وزیرآباد+قلعہ دیدار سنگھ (نامہ نگار+نمائندہ خصوصی) وزیر اعلیٰ کا یہ کام نہیں کہ سڑکوں پر بیٹھا رہے، یا کسی کی چپل کا ناپ دے یا کسی کی تصویر کو صاف کرے بلکہ اسکا کام عوامی و فلاحی منصوبے لانا ہے۔ عوام کو سہولیات پہنچانے کے لیے اقدامات کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے احمد نگر چٹھہ میں چوہدری شجاعت حسین، چوہدری وجاہت حسین کے بہنوئی، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے ہم زلف اور سابق سپیکر قومی اسمبلی چوہدری حامد ناصر چٹھہ کے چچا چوہدری جاوید چٹھہ کے انتقال کے موقع پر تعزیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ان کے بھائی، این اے 66 وزیرآباد سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری بلال فاروق تارڑ اور ایم پی اے عدنان افضل چٹھہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے  کہا کہ کالعدم  قرار دی جانے والی  جانے والی  ٹی ایل پی کے خلاف وفاقی کابینہ کو پنجاب حکومت کی جانب سے کافی شواہد و مواد ملا ہے، انہوں نے کہا کہ مریدکے میں پنجاب پولیس کے شہید ایس ایچ او کو 21 گولیاں ماری گئیں  جب ٹی ایل پی نے 2021  پی ٹی آئی حکومت سے بھی مشروط معاہدہ کیا کہ پرتشدد و ہنگامہ آرائی جیسی کارروائیاں نہیں کریں گے۔ اس کی بھی انہوں نے خلاف ورزی کی اور اب بھی پرتشدد کارروائیاں کیں، انہوں نے  کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کا کیس ہے اور اس کا جواب یہ نہیں کہ مذہب کو درمیان میں لا کر یا ریاست مدینہ کا نعرہ لگا کر خود کو بچانے کی کوشش کی جائے قوم کا پیسہ ہے کس طرح ملک ریاض کو اتنی بڑی رعایت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جاوید اختر چٹھہ مرحوم کو 1992ء سے جانتا ہوں، میرے دادا کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات تھے، ہم سے بڑی شفقت کرتے انہوں نے جاوید اختر چٹھہ کے پسماندگان سے اظہار تعزیت و بلندی درجات کی دعا کی۔ دریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری عطاء اللہ تارڑ کی اپنے بھائی امیداوار این اے 66بلال فاروق تارڑ، عدنان افضل چٹھہ، عمران مصطفی وڑائچ، یعقوب ساہی، اشفاق چیمہ، اعجاز باٹھ، اظہر وڑائچ، اعجاز سیکھو و دیگر لیگی رہنماؤں کے ہمراہ نواحی گاؤں پپناکھہ میں مسلم لیگ (ن)کے سابق ایم پی اے چودھری محمد اشرف وڑائچ کے سسر اور سینیئر رہنما مسلم لیگ) (ن) جمشید وڑائچ، چوہدری خرم وڑائچ، چوہدری کاشف وڑائچ کے والد کی وفات پر اظہار تعزیت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن