سٹرکوں پر بیٹھنا کسی کی تصویر صاف کرنا چپل کا ناپ دینا وریزاعلیٰکا کام نہیں : عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
وزیرآباد+قلعہ دیدار سنگھ (نامہ نگار+نمائندہ خصوصی) وزیر اعلیٰ کا یہ کام نہیں کہ سڑکوں پر بیٹھا رہے، یا کسی کی چپل کا ناپ دے یا کسی کی تصویر کو صاف کرے بلکہ اسکا کام عوامی و فلاحی منصوبے لانا ہے۔ عوام کو سہولیات پہنچانے کے لیے اقدامات کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے احمد نگر چٹھہ میں چوہدری شجاعت حسین، چوہدری وجاہت حسین کے بہنوئی، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے ہم زلف اور سابق سپیکر قومی اسمبلی چوہدری حامد ناصر چٹھہ کے چچا چوہدری جاوید چٹھہ کے انتقال کے موقع پر تعزیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ان کے بھائی، این اے 66 وزیرآباد سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری بلال فاروق تارڑ اور ایم پی اے عدنان افضل چٹھہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم قرار دی جانے والی جانے والی ٹی ایل پی کے خلاف وفاقی کابینہ کو پنجاب حکومت کی جانب سے کافی شواہد و مواد ملا ہے، انہوں نے کہا کہ مریدکے میں پنجاب پولیس کے شہید ایس ایچ او کو 21 گولیاں ماری گئیں جب ٹی ایل پی نے 2021 پی ٹی آئی حکومت سے بھی مشروط معاہدہ کیا کہ پرتشدد و ہنگامہ آرائی جیسی کارروائیاں نہیں کریں گے۔ اس کی بھی انہوں نے خلاف ورزی کی اور اب بھی پرتشدد کارروائیاں کیں، انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کا کیس ہے اور اس کا جواب یہ نہیں کہ مذہب کو درمیان میں لا کر یا ریاست مدینہ کا نعرہ لگا کر خود کو بچانے کی کوشش کی جائے قوم کا پیسہ ہے کس طرح ملک ریاض کو اتنی بڑی رعایت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جاوید اختر چٹھہ مرحوم کو 1992ء سے جانتا ہوں، میرے دادا کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات تھے، ہم سے بڑی شفقت کرتے انہوں نے جاوید اختر چٹھہ کے پسماندگان سے اظہار تعزیت و بلندی درجات کی دعا کی۔ دریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری عطاء اللہ تارڑ کی اپنے بھائی امیداوار این اے 66بلال فاروق تارڑ، عدنان افضل چٹھہ، عمران مصطفی وڑائچ، یعقوب ساہی، اشفاق چیمہ، اعجاز باٹھ، اظہر وڑائچ، اعجاز سیکھو و دیگر لیگی رہنماؤں کے ہمراہ نواحی گاؤں پپناکھہ میں مسلم لیگ (ن)کے سابق ایم پی اے چودھری محمد اشرف وڑائچ کے سسر اور سینیئر رہنما مسلم لیگ) (ن) جمشید وڑائچ، چوہدری خرم وڑائچ، چوہدری کاشف وڑائچ کے والد کی وفات پر اظہار تعزیت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔