Jasarat News:
2026-06-03@05:37:06 GMT

اسرائیلی جیلوں میں 49 فلسطینی خواتین قید ہونے کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیت المقدس: اسرائیلی جیلوں میں اس وقت بھی 49 فلسطینی خواتین قید ہیں جن میں 2 کم عمر لڑکیاں اور غزہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی نے اتوار کو بتایا کہ ان خواتین کو جیلوں اور تفتیشی مراکز میں بدسلوکی اور تشدد کا سامنا ہے۔

آج فلسطینی خواتین کے قومی دن کے موقع پر جاری بیان میں سوسائٹی نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی غزہ میں جاری نسل کشی کے آغاز کے بعد سے خواتین قیدیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ناقابلِ تصور حد تک بڑھ گئی ہے۔

سوسائٹی کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد جیلوں میں قید فلسطینیوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے اور اسرائیلی حکام کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ان خلاف ورزیوں میں تشدد، خوراک کی کمی، طبی سہولتوں سے محرومی، جسمانی تلاشی کے بہانے جنسی ہراسانی، اور نفسیاتی اذیت شامل ہیں، اس کے علاوہ خواتین قیدیوں کو ریپ کی دھمکیوں، ذلت آمیز سلوک اور مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی کے مطابق قید خواتین میں کینسر کی مریضہ فدا عساف، غزہ کی تسنیم الہمس، اور 2 کم عمر لڑکیاں سلی صدقہ اور حنا حماد شامل ہیں جن میں سے حنا کو انتظامی حراست میں بغیر کسی مقدمے کے رکھا گیا ہے۔ سوسائٹی کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں قید 12 فلسطینی خواتین ایسی ہیں جن پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی خواتین خواتین قید جیلوں میں کے مطابق

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود