یوٹیوبر رجب بٹ کی بھارتی ٹک ٹاکر سے فلرٹ کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
پاکستانی یوٹیوبر اور ڈیجیٹل کریئیٹر رجب بٹ ایک بار پھر تنازعہ کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ حالیہ دنوں میں کئی ٹک ٹاک لائیو سیشنز کر رہے ہیں اور ان کے بیانات اور رویے کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔
حال ہی میں ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہیں بھارتی ٹک ٹاکر ریا جو کہ اس وقت دبئی میں مقیم ہیں کہ ساتھ فلرٹ کرتے دیکھا گیا۔ لائیو گفتگو کے دوران رجب بٹ نے ان کے ساتھ نہ صرف بے تکلّفانہ انداز اختیار کیا بلکہ کھل کر ان سے محبت کا اظہار بھی کیا۔ ریا کے سوال پر کہ وہ عام طور پر لوگوں کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرتے ہیں لیکن ان کے ساتھ نرم رویہ کیوں اپنایا، رجب نے جواب دیا کہ وہ انہیں پسند کرتے ہیں اسی لیے رویہ مختلف ہے۔ رجب بٹ کا کہنا تھا کہ ’پیار محسوس کرو میں تمہیں دیکھ کر خوش ہو جاتا ہوں‘۔
A post shared by The Trending Pk (@thetrendingpk2025)
رجب کے ٹک ٹاک لائیو سیشنز کا حال ہی میں ان کی والدہ نے دفاع کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب ’چیریٹی‘ کے لیے کرتے ہیں۔ اس قسم کی ’چیریٹی‘ اب زیرِ تنقید ہے کیونکہ رجب نہ صرف شادی شدہ ہیں بلکہ ایک بچے کے والد بھی ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین رجب بٹ کی ویڈیو کو خوب تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’اب اس کی والدہ اس کا کیسے دفاع کریں گی؟ وہ کبھی نہیں بدلے گا کیونکہ اس کی ماں اس کا ساتھ دیتی ہے اور اسے اپنی بیوی کی پروا نہیں۔ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’اللہ سب لڑکیوں کو ایسے شوہروں سے بچائے‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔