گوادر ایئر پورٹ پر بین الاقوامی فلائٹ آپریشن کا آغاز ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
گوادر (ڈیلی پاکستان آن لائن )نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے آج سے بین الاقوامی فلائٹ آپریشن کا بھی آغاز ہو گیا۔
نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے قومی ائیر لائن کی پہلی پرواز پی کے 197 صبح 9:41 بجے مسقط کیلئے روانہ ہوئی۔ مسقط سے یہی اے ٹی آر طیارہ پرواز پی کے 198 کے طور پر دوپہر کو گوادر آئے گا۔
ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق یہ طیارہ کراچی سے پرواز پی کے 503 کے طور پر مسافروں کو لے کر صبح گوادر پہنچا تھا، اسی طیارے سے دوپہر 2 بجے گوادر کراچی کی پرواز پی کے 504 آپریٹ ہوگی۔
پی ٹی آئی احتجاج کی فائنل کال ، کروڑوں روپے ملنے پر رہنما ورکرز کو نہ نکال سکے، مانیٹرنگ سیل کی رپورٹ میں انکشاف
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے فلائٹ آپریشن کا آغاز 20 جنوری کو ہوا تھا۔
گوادر ائیرپورٹ کے لیے فی الحال قومی ائیر لائن کی پروازیں ہی چلائی جا رہی ہیں، اس ائیرپورٹ پر ائیر بس اور بوئنگ طیارے بھی لینڈ کر سکتے ہیں لیکن ائیر لائن ذرائع کے مطابق اس روٹ پر فی الحال مسافر کم ہونے کی وجہ سے قومی ائیر لائن گوادر کیلئے اے ٹی ار طیارہ استعمال کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق مسافروں کا لوڈ بڑھنے پر گوادر کیلئے ائیربس طیارے بھی استعمال کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا افتتاح کیا تھا اور اسلام آباد سے گوادر ائیرپورٹ پہنچنے والی پہلی پرواز کو واٹر سیلوٹ پیش کیا گیا تھا۔
پاکستانی عازمین کی سہولیات میں اضافہ، حج اخراجات گزشتہ برس سے بھی کم ہوگئے، چند روز میں اعلان متوقع
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق پرواز پی کے ائیر لائن
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔