گوادر (ڈیلی پاکستان آن لائن )نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے آج سے بین الاقوامی فلائٹ آپریشن کا بھی آغاز ہو گیا۔ 

نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے قومی ائیر لائن کی پہلی پرواز پی کے 197 صبح 9:41 بجے مسقط کیلئے روانہ ہوئی۔  مسقط سے یہی اے ٹی آر طیارہ پرواز پی کے 198 کے طور پر دوپہر کو گوادر آئے گا۔ 

ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق یہ طیارہ کراچی سے پرواز پی کے 503 کے طور پر مسافروں کو لے کر صبح گوادر پہنچا تھا، اسی طیارے سے دوپہر 2 بجے گوادر کراچی کی پرواز پی کے 504 آپریٹ ہوگی۔

پی ٹی آئی احتجاج کی فائنل کال ، کروڑوں روپے ملنے پر رہنما ورکرز کو نہ نکال سکے،  مانیٹرنگ سیل کی رپورٹ میں انکشاف 

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے فلائٹ آپریشن کا آغاز 20 جنوری کو ہوا تھا۔

گوادر ائیرپورٹ کے لیے فی الحال قومی ائیر لائن کی پروازیں ہی چلائی جا رہی ہیں، اس ائیرپورٹ پر ائیر بس اور بوئنگ طیارے بھی لینڈ کر سکتے ہیں لیکن ائیر لائن ذرائع کے مطابق اس روٹ پر فی الحال مسافر کم ہونے کی وجہ سے قومی ائیر لائن گوادر کیلئے اے ٹی ار طیارہ استعمال کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق مسافروں کا لوڈ بڑھنے پر گوادر کیلئے ائیربس طیارے بھی استعمال کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا افتتاح کیا تھا اور اسلام آباد سے گوادر ائیرپورٹ پہنچنے والی پہلی پرواز کو واٹر سیلوٹ پیش کیا گیا تھا۔

پاکستانی  عازمین کی سہولیات میں اضافہ،  حج اخراجات گزشتہ برس سے بھی کم  ہوگئے، چند روز میں اعلان متوقع

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق پرواز پی کے ائیر لائن

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت دو ماہ کی کم ترین سطح پر
  • سائوتھ ایئر کا نجی ایئر فیلڈز پر کمرشل پروازوں کا اجازت نامہ منسوخ
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا