بھارت نے بلاول بھٹو اور عمران خان کا بھی ایکس اکاونٹ بلاک کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
بھارت نے بلاول بھٹو اور عمران خان کا بھی ایکس اکاونٹ بلاک کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 4 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، ڈی جی آئی ایس پی آر اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے سوشل میڈیا اکاونٹس بلاک کرنے کے بعد بھارت نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کا بھی ایکس اکاونٹ بلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام بھارتی حکومت کی جانب سے آزادی اظہار رائے پر ایک اور کاری ضرب کا نتیجہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے پہلگام فالس فلیگ میں ناکامی کے بعد اب آزادی اظہار رائے پر پابندی لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ تاکہ حقیقت دنیا کے سامنے نہ آسکے۔بھارت کی تمام ترجعلی کارروائیاں بے نقاب ہونے کے بعد اب مودی سرکار نے پاکستان کے سیاسی رہنماں کے سوشل میڈیا اکاونٹس بلاک کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔بھارت میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے ایکس اکاونٹ کو بلاک کرنے پر نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان کا ردعمل سامنے آیا ہیشیری رحمان نے کہا ہے کہ بھارت نے پہلگام واقعے کا الزام تو پاکستان پر دھر دیا لیکن سچائی سامنے آنے پر اب سخت گھبراہٹ کا شکار ہے، پہلگام واقعے پر بھارت کے حالیہ اقدامات پاکستانی موقف کو تقویت دے رہے ہیں۔
نائب صدر پیپلز پارٹی نے کہا کہ مودی سرکار سن لو آوازیں دبانے سے سچ چھپتا نہیں، بلاول پاکستان کے عوام کی آواز ہیں، ان کا اکاونٹ بلاک کرنا بھارت کے جھوٹ کو بے نقاب کرتا ہے۔پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ بھارت کے پاس فیس سیونگ کا کوئی راستہ نہیں بچا،بھارت کو شواہد پیش کرنے چاہیں نہ کہ سنسرشپ کا راستہ اپنائے۔انہوں نے مزید کہا کہ تنقیدی آوازوں کو دبانے کی کوششیں نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا رہی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کو منہ توڑ جواب،بھارتی پرچم بردار بحری جہازوں کا پاکستانی بندرگاہوں پر داخلہ بند بھارت کو منہ توڑ جواب،بھارتی پرچم بردار بحری جہازوں کا پاکستانی بندرگاہوں پر داخلہ بند ٹیکس افسران کو لامحدود اختیارات دینے کا معاملہ،صدر مرکزی تنظیم تاجران کاشف چوہدری نے فیصلے کو معیشت دشمن قرار دیدیا بھارت کا حملہ قریب، ایٹمی ہتھیاروں سمیت پوری قوت سے جواب دینگے، پاکستانی سفیرمحمد خالد جمالی وزیراعظم کا پہلگام واقعہ پر ایک بار پھر غیر جانبدار اور شفاف عالمی تحقیقات کا اعادہ پاک بھارت کشیدگی،وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، اہم امور پر گفتگو پی ٹی آئی کا پاک بھارت کشیدگی پر حکومتی بریفنگ میں شرکت کرنے سے انکارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اکاونٹ بلاک کر ایکس اکاونٹ پیپلز پارٹی بلاول بھٹو بھارت نے کر دیا
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش