UrduPoint:
2026-07-24@12:17:31 GMT

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی

اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی

کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 05 مئی ۔2025 )اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس یا ایک فیصد کمی کرنے کا اعلان کردیا ہے ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک فیصد کمی کے بعد شرح سود 12 فیصد سے کم ہوکر 11 فیصد پر آگئی ہے. شرح سود میں ممکنہ رد و بدل کے حوالے سے کاروباری برادری، سرمایہ کار اور ماہرین معیشت بے چینی سے منتظر تھے قبل ازیں ذرائع کے حوالے سے بتایاگیا تھا کہ شرح سود میں ایک سے دو فیصد کمی کا امکان ہے جس کا مقصد کاروباری لاگت کو کم کرکے صنعتی سرگرمیوں کو بحال کرنا اور معاشی پہیہ دوبارہ متحرک کرنا تھا .

(جاری ہے)

وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے وائس چیئرمین نے مطالبہ کیا تھا کہ شرح سود کو فوری طور پر سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے معروف صنعت کار ذکی اعجاز نے کہا تھا کہ معیشت کو سنبھالنے کے لیے کم از کم 500 بیسس پوائنٹس (پانچ فیصد) کی کمی ناگزیر ہے کیونکہ موجودہ بلند شرح سود کے باعث صنعتی قرض گیری تقریباً بند ہو چکی ہے.

دوسری جانب معاشی و مالیاتی تجزیہ کار عتیق الرحمان نے موجودہ مشکل حالات میں شرح سود میں ”اسٹیٹس کو“ یعنی استحکام کو ترجیح دی ان کے مطابق خصوصاً فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے لیے خام مال کی درآمد اسی وقت ممکن ہے جب فنڈنگ کی لاگت کم ہو تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو بندرگاہوں، فش ہاربرز، پروسیسنگ یونٹس اور زرعی و مویشی فارمنگ میں فوری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جس کے لیے مالیاتی استحکام بنیادی شرط ہے.

عتیق الرحمان کا کہنا تھا کہ بزرگ شہری، فلاحی ادارے اور پنشنرز جن کی آمدنی طویل المدتی سیونگز سے جڑی ہے ان کے لیے بھی شرح سود کا موجودہ لیول برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ ان کی یومیہ ضروریات پوری ہو سکیں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف بھی پاکستان پر سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے پر زور دے چکا ہے جبکہ ممکنہ غیر ملکی مالیاتی آمد بھی تاحال موصول نہیں ہوئی. ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں کسی بھی تبدیلی کا براہِ راست اثر نہ صرف مارکیٹ کے اعتماد پر پڑے گا بلکہ مہنگائی، کرنسی کی قدر، برآمدات اور قرض گیری پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہوں گے اس تناظر میں اسٹیٹ بینک کا کل کا فیصلہ ملکی معیشت کی سمت کے تعین میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فیصد کمی تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی

چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔

ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔

وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.

Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8

— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم