وہ کہاں ہے ؟ جہاں بھی ہے چپ ہے۔اس نے اپنے ہونٹ مصلحت کے دھاگے سے سی لئے ہیں ۔اس کے ملک پر سے کتنا بڑا حادثہ گزر گیا ،وہ چپ رہا ۔جغرافیائی سرحدوں پر قیامت ٹوٹ پڑی وہ چپ رہا ۔ہمارے فوجی نوجوان شہید ہوئے، کئی عورتیں، مرد اور بچے جنگ کا لقمہ بنے ۔ہمارے دشمن نے ہم پر شب خون مارا وہ چپ رہا ، ہمارے امن و سکون کو تہ و بالاکیا گیا وہ چپ رہا ۔اس نے ہمارے مرنے والوں کا پرسہ بھی نہیں دیا ۔ایسی بھی کیا مصلحت کہ وہ ملک جس کا وہ تین مرتبہ وزیراعظم رہا اس کی سالمیت خطرات کی سان پر چڑھی رہی ،ساری دنیا،چیخ چیخ کر پکارتی رہی کہ دو نیوکلیئر قوتیں آپس میں نبرد آزما ہیں کوئی بٹن نہ دبادے! زمیں کا سیارہ مٹ کے رہ جائے گا، کائنات کی رونق سمٹ کر رہ جائے گی ۔سب نے چیخ و پکار کی مگر وہ نہ جانے کس کنج تنہائی میں چپ کی بکل مارے محو استراحت رہا ۔
سرائیکی وسیب کے مہاندرے شاعر اقبال سوکڑی نے کہا تھا۔
چپ چپ یارو !
کوئی گالھ کرو
ایں چپ چپ دا پرچاونڑ کیا ؟
کیا آکھسی لاش حیاتی دی
ساڈا آونڑ کیا
ناں آونڑ کیا ؟
اساں خالی جھولی فطرت دی
اساں کھوٹے سکے قدرت دے
ساڈی اکھ دا ترکہ
خواب پرائے
ایں ترکے دا کم لاونڑ کیا
اساں کیں کیں نال ناں پیار کیتا
ہے کون جو ساڈا دشمن نئیں
(چپ چپ یارو ،کوئی بات کرویہ مسلسل خاموشی کس بات کا پرسہ ہے ؟
زندگی کی لاش کیا کہے گی ؟
ہمیں آنا تھا
یا نہیں آنا تھا ؟
ہم فطرت کی خالی جھولی ہیں
ہم قدرت کے کھوٹے سکے ہیں
ہماری آنکھ کا ورثہ
پرائے خواب ہیں
یہ ورثہ کس کام کا؟
ہم نے کس کس سے محبت نہیں کی کون ہے جو ہمارا دشمن نہیں ؟)
یہی گہرا درد اور یہی سوال اس شخص کی خاموشی میں پنہاں ہے ،جو ہماری ملکی سالمیت کے خلاف برپا ہونے والے سانحے پر ٹس سے مس نہیں ہوا ۔
مذکورہ سرائیکی نظم میں ایسے چپ سادھ لینے والے صاحب اختیار لوگوں کی خاموشی پر فکری اور جذباتی احتجاج ہے ۔
یہ نظم ہم تیسری دنیا کے پسماندہ باشندوں کا المیہ ہے جو ہماری ہر حالت کے ذمہ دار ہیں ۔جو ہمارے اندر اور باہر کی ٹوٹ پھوٹ پر کسی تاثر کا اظہار نہیں کرتے ،ہماری ہر محرومی ،ہر دکھ کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ان بھیانک چپ اوڑھ لینے والے لوگوں نے ہماری معیشت، ہماری معاشرت اور ہماری شناخت کو نقصان سے دو چار کیا ہے ، انہوں نے ہمارے لئے وجودی بحران پیدا کئے ہیں ۔ اپنے مفادات کی خاطر ،اپنے بےجا اختیارات کی خاطر خطے کے امن و امان کو جنگ کے خطرات کی بھینٹ چڑھایا۔
جس طرح شاعر کے لئے اپنے دوستوں کی خاموشی ایک سوال ہے اسی طرح ہم سب کے لئے یہ سکوت اپنے اندر بھید لئے ہوئے ہے ۔ہمیں ناامیدی کے اندھیرے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔ نظم میں جس طرح شاعر مردہ دل معاشرے پر نوحہ کناں ہے عین اسی طرح پوری قوم خاموش آدمی کی بے معنی خاموشی پر حیران ہے۔
یوں شاعر نے اپنے آنے نہ آنے پر وجود کی بےمعنویت پر سوال اٹھایا ہے جو ایک وجودی سوال(existential question)ہے۔شاعر کو اپنی آنکھوں کے خوابوں پر شک گزرتا ہے ویسے چپ رہ جانے والے پر ہم سب کو شک ہے کہ وہ ہمارے خوابوں کا سودا کرنے کے درپے تو نہیں ؟ ہم انہی وسوسوں اور مخمصوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں اس نے اپنی ولی عہدی کا تاج جس کے سر سجایا ہے اس نے بھی خاموشی کی دبیز چادر اوڑھ رکھی ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔
سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔
سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے
اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش
ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔
اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے
سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔
سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید
سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔
ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟
انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔
سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی