Daily Ausaf:
2026-06-03@02:26:46 GMT

وہ چپ کیوں ہے ؟

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

وہ کہاں ہے ؟ جہاں بھی ہے چپ ہے۔اس نے اپنے ہونٹ مصلحت کے دھاگے سے سی لئے ہیں ۔اس کے ملک پر سے کتنا بڑا حادثہ گزر گیا ،وہ چپ رہا ۔جغرافیائی سرحدوں پر قیامت ٹوٹ پڑی وہ چپ رہا ۔ہمارے فوجی نوجوان شہید ہوئے، کئی عورتیں، مرد اور بچے جنگ کا لقمہ بنے ۔ہمارے دشمن نے ہم پر شب خون مارا وہ چپ رہا ، ہمارے امن و سکون کو تہ و بالاکیا گیا وہ چپ رہا ۔اس نے ہمارے مرنے والوں کا پرسہ بھی نہیں دیا ۔ایسی بھی کیا مصلحت کہ وہ ملک جس کا وہ تین مرتبہ وزیراعظم رہا اس کی سالمیت خطرات کی سان پر چڑھی رہی ،ساری دنیا،چیخ چیخ کر پکارتی رہی کہ دو نیوکلیئر قوتیں آپس میں نبرد آزما ہیں کوئی بٹن نہ دبادے! زمیں کا سیارہ مٹ کے رہ جائے گا، کائنات کی رونق سمٹ کر رہ جائے گی ۔سب نے چیخ و پکار کی مگر وہ نہ جانے کس کنج تنہائی میں چپ کی بکل مارے محو استراحت رہا ۔
سرائیکی وسیب کے مہاندرے شاعر اقبال سوکڑی نے کہا تھا۔
چپ چپ یارو !
کوئی گالھ کرو
ایں چپ چپ دا پرچاونڑ کیا ؟
کیا آکھسی لاش حیاتی دی
ساڈا آونڑ کیا
ناں آونڑ کیا ؟
اساں خالی جھولی فطرت دی
اساں کھوٹے سکے قدرت دے
ساڈی اکھ دا ترکہ
خواب پرائے
ایں ترکے دا کم لاونڑ کیا
اساں کیں کیں نال ناں پیار کیتا
ہے کون جو ساڈا دشمن نئیں
(چپ چپ یارو ،کوئی بات کرویہ مسلسل خاموشی کس بات کا پرسہ ہے ؟
زندگی کی لاش کیا کہے گی ؟
ہمیں آنا تھا
یا نہیں آنا تھا ؟
ہم فطرت کی خالی جھولی ہیں
ہم قدرت کے کھوٹے سکے ہیں
ہماری آنکھ کا ورثہ
پرائے خواب ہیں
یہ ورثہ کس کام کا؟
ہم نے کس کس سے محبت نہیں کی کون ہے جو ہمارا دشمن نہیں ؟)
یہی گہرا درد اور یہی سوال اس شخص کی خاموشی میں پنہاں ہے ،جو ہماری ملکی سالمیت کے خلاف برپا ہونے والے سانحے پر ٹس سے مس نہیں ہوا ۔
مذکورہ سرائیکی نظم میں ایسے چپ سادھ لینے والے صاحب اختیار لوگوں کی خاموشی پر فکری اور جذباتی احتجاج ہے ۔
یہ نظم ہم تیسری دنیا کے پسماندہ باشندوں کا المیہ ہے جو ہماری ہر حالت کے ذمہ دار ہیں ۔جو ہمارے اندر اور باہر کی ٹوٹ پھوٹ پر کسی تاثر کا اظہار نہیں کرتے ،ہماری ہر محرومی ،ہر دکھ کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ان بھیانک چپ اوڑھ لینے والے لوگوں نے ہماری معیشت، ہماری معاشرت اور ہماری شناخت کو نقصان سے دو چار کیا ہے ، انہوں نے ہمارے لئے وجودی بحران پیدا کئے ہیں ۔ اپنے مفادات کی خاطر ،اپنے بےجا اختیارات کی خاطر خطے کے امن و امان کو جنگ کے خطرات کی بھینٹ چڑھایا۔
جس طرح شاعر کے لئے اپنے دوستوں کی خاموشی ایک سوال ہے اسی طرح ہم سب کے لئے یہ سکوت اپنے اندر بھید لئے ہوئے ہے ۔ہمیں ناامیدی کے اندھیرے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔ نظم میں جس طرح شاعر مردہ دل معاشرے پر نوحہ کناں ہے عین اسی طرح پوری قوم خاموش آدمی کی بے معنی خاموشی پر حیران ہے۔
یوں شاعر نے اپنے آنے نہ آنے پر وجود کی بےمعنویت پر سوال اٹھایا ہے جو ایک وجودی سوال(existential question)ہے۔شاعر کو اپنی آنکھوں کے خوابوں پر شک گزرتا ہے ویسے چپ رہ جانے والے پر ہم سب کو شک ہے کہ وہ ہمارے خوابوں کا سودا کرنے کے درپے تو نہیں ؟ ہم انہی وسوسوں اور مخمصوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں اس نے اپنی ولی عہدی کا تاج جس کے سر سجایا ہے اس نے بھی خاموشی کی دبیز چادر اوڑھ رکھی ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟