پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر شبلی فراز—فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ بھارت سے متعلق چیزوں پر لب کشائی نہیں کرنی۔

سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سینیٹ کا ایجنڈا پیش کرتی ہے اور خود ایوان سے غائب ہے، اپوزیشن اس اہم مسئلے پر بات کر رہی ہے اور حکومتی بینچز خالی ہیں۔

سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک طے شدہ معاملہ ہے، ہمیں سندھ طاس معاہدے کو بہت سنجیدگی سے لینا ہے، سندھ طاس معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں چاہیں گے اور نہ بھارت کو اس کی اجازت دیں گے۔

سینیٹ نے سول کورٹس ترمیمی بل منظور کر لیا

پی ٹی آئی کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وزیرِ مملکت کو علم ہی نہیں کہ بل میں ہے کیا

انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں بلز پر بحث تک نہیں کروائی جا رہی، سینیٹ بنا تھا کہ یہاں ٹینکوکریٹ آئیں گے، میں، علی ظفر اور عرفان صدیقی الیکشن لڑنے والے لوگ نہیں ہیں، ہمیں کہا جاتا ہے جو بل آئے اسے پاس کرو۔

شبلی فراز نے کہا کہ ایوان سے بحث کا کلچر ختم ہو گیا ہے، ہم تو بھول ہی گئے کہ سینیٹ میں وقفہ سوالات ہوتا تھا، ہمیں کہا گیا کہ آج اجلاس میں بلز منظور کرانے ہیں، ہم اپوزیشن والے سب بلز کی مخالفت کریں گے، ہمیں ابھی تک بلز کی کاپی نہیں دی گئی اور کہہ دیا ہے کہ بلز کو منظور کر دیں۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ پانی کا مسئلہ اتنا ہی اہم ہے جتنا دہشت گردی کا، یہ بھی ایک جنگ ہے جو ہم پر مسلط کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کی قلت کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، پانی کے مسئلے کو حل نہیں کریں گے تو ہم بھوکے مر سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ٹی ا ئی

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔

توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

  نوٹس متن  کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان