میڈ اِن چائنا” سے لے کر “چین میں تخلیق” تک کی ترقی کوبین الاقوامی کاروباری برادری نے سراہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
میڈ اِن چائنا” سے لے کر “چین میں تخلیق” تک کی ترقی کوبین الاقوامی کاروباری برادری نے سراہا ہے WhatsAppFacebookTwitter 0 24 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ : بیجنگ میں 2025 کی عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کی سمٹ منعقد ہوئی ،جس میں 48 ممالک اور خطوں کے کاروباری نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے کہا کہ چین، اعلیٰ معیار کی ترقی اور اعلیٰ سطح کے کھلے پن کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے۔ بڑھتی ہوئی ایجادات دنیا کو بہتر ثمرات مہیا کر رہی ہیں اور عالمی اقتصادی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہیں۔
برطانیہ کے 48 گروپ کے چیئرمین جیک پیری نے کہا: “جب ڈیپ سیک کی خبر سامنے آئی تو کسی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں حیران ہوں، اور میں نے کہا نہیں۔ جب بھی بیرونی دنیا ٹیکنالوجی کے ذریعے چین کو روکنے کی کوشش کرتی ہے، چین ہمیشہ مشکلات پر قابو پاتا ہے۔ مجھے اس بات پر بالکل بھی حیرت نہیں ہے کہ چین اب مصنوعی ذہانت کے میدان میں آگے ہے۔
“چین میں امریکن چیمبر آف کامرس کے صدر مائیکل ہاٹ نے کہا کہ نئی توانائی کی گاڑیاں ان شعبوں میں سے ایک ہیں جہاں چین مسلسل تخلیقات کر رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہاں امریکی کمپنیاں چین کے اختراعی طریقے کو سمجھ سکیں گی اور مجموعی طور پر مارکیٹ میں حصہ لے سکیں گی۔شرکاء نے کہا کہ اس وقت یکطرفہ تحفظ پسندی شدت اختیار کر رہی ہے اور باہمی طور پر فائدہ مند اور جیت جیت پر مبنی عالمی صنعتی اور سپلائی چین کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ وہ چین کے ساتھ مزید تعاون کے منتظر ہیں۔
سمٹ میں شرکت کرنے والے بہت سے کاروباری نمائندوں نے اپنے خیال میں چین میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع کا انتخاب کیا۔ برٹش چائنیز بزنس کونسل کے چیئرمین سر شیرارد لوئس کوپر کولز نے کہا کہ ہم یقینی طور پر مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیجیٹل اکانومی میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکینیا-چین دوستانہ تعاون سے کثیرالجہتی شراکت داری کیلئے پرامید ہیں ، صدر کینیا کینیا-چین دوستانہ تعاون سے کثیرالجہتی شراکت داری کیلئے پرامید ہیں ، صدر کینیا وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ تبدیل،اب 10جون کو پیش کیا جائے گا رواں ہفتے 13 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ،سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 1.35فیصد کی سطح پر آگئی پاکستان نے معاشی اہداف مکمل اور اصلاحات میں مثبت پیش رفت کی، آئی ایم ایف کا اعتراف چین کے معاشی آپریشن میں تیزی اور بہتری کا سلسلہ جاری ہے، چینی نائب وزیراعظم ثقافتی ترقی کے درمیان ہم آہنگی چینی جدیدیت کی ایک اہم خصوصیت ہے، چینی صدر
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چین میں
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب