قائم مقام چیئرمین سی ڈی اے طلعت محمود کی زیر صدارت اجلاس ، صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے سلسلہ میں اٹھائے گئے اقدامات پر اظہار اطمینان
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
قائم مقام چیئرمین سی ڈی اے طلعت محمود کی زیر صدارت اجلاس ، صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے سلسلہ میں اٹھائے گئے اقدامات پر اظہار اطمینان WhatsAppFacebookTwitter 0 25 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈی جی سول ڈیفنس محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر قائم مقام چیئرمین سی ڈی اے طلعت محمود کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈ کوارٹرز میں ایک اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں سی ڈی اے کے ممبر ایڈمن، ممبر انوائرمنٹ، ممبر فنانس، ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیپیٹل ہسپتال، اے ڈی بی کے نمائندگان اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی ۔
اجلاس میں سی ڈی اے کے ملازمین اور اسلام آباد کے عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے سلسلہ میں اٹھائے جانے والے سی ڈی اے کی طرف سے اب تک اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور ان پر اظہار اطمینان کیا گیا۔قائم مقام چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ کیپیٹل ہسپتال میں نہ صرف قابل اور ماہر ڈاکٹرز کی تعیناتی عمل میں لائی جارہی ہے بلکہ اسکی مجموعی کارکردگی کو مزید بڑھانے کیلئے کاوشیں جارہی ہیں، تاکہ سی ڈی اے ملازمین اور شہریوں کو جدید خطوط پر معیاری طبی سہولیات دستیاب ہوں،کیپیٹل ہسپتال کو مالیاتی طور پر خود مختار بنانے کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات کو جدید خطوط پر بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ہسپتال میں بیڈز کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جارہا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ سی ڈی اے کے ملازمین اور شہریوں کو صحت کی بہتر سے بہترین سہولیات کی فراہمی ممکن بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے اسلام آباد شہر کی ترقی و خوشحالی اور خوبصورتی کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات میں بتدریج اضافہ سی ڈی اے کی ترجیحات میں شامل ہے، جس کیلئے نہ صرف تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں بلکہ صحت کی سہولیات کی بہتری اور کیپیٹل ہسپتال کے معیار کو بھی مزید بڑھانے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربانی پی ٹی آئی کو پارٹی اور بہن نے مائنس کردیا، عظمی بخاری بانی پی ٹی آئی کو پارٹی اور بہن نے مائنس کردیا، عظمی بخاری علی امین گنڈا پور کی بانی سے ملاقات کی درخواست، جسٹس منصور کی کیس سننے سے معذرت پاکستان اور یو اے ای کے درمیان سرکاری و سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم ، معاہدے پر دستخط پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات کامیاب؛آئندہ ہفتے معاہدے کی تکمیل پر اتفاق اسرائیلی ماڈل اپنانے کی تیاری؟ پاکستان کیخلاف بھارتی عزائم بے نقاب حالیہ بارشوں کے بعد ڈیموں میں پانی کے ذخیرے میں اضافہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قائم مقام چیئرمین سی ڈی اے بہترین سہولیات کی فراہمی صحت کی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔