data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (پ ر)تنظیم اساتذہ پاکستان کے زیر اہتمام تین روزہ تعلیمی کانفرنس 27، 28، 29 جون 2025 ء کو سندھ یوتھ کلب، گلستان جوہر کراچی میں منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے ممتاز اساتذہ، تعلیمی ماہرین، اسکول و کالج کے نمائندگان اور مختلف اداروںسے وابستہ معززین نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تعلیمی اصلاحات اور نئی نسل کی تشکیل ، تعلیم میں اسلامی اقدار کی شمولیت، مصنوعی ذہانت (AI) کے دور میں اساتذہ کا کردار،نصابِ تعلیم میں اسلامیات اور اخلاقیات کی اہمیت، نقل کلچر کا خاتمہ: چیلنجز اور حل پر مقررین نے خطاب کیا۔ جن میں معروف اسکالر و مرکزی صدر الطاف حسین لنگڑیال، معروف اسکالر ڈاکٹر پروفیسر حسین بانو صاحبہ، معروف ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر تبسم عذرا صدیقی، پروفیسر ڈاکٹرافشین عارف، پروفیسر ڈاکٹر افشاں عنایت، پروفیسر کریم النساء حسینی ۔ تنظیم اساتذہ پاکستان کے مرکزی صدر ساجدہ ظفر کے علاوہ سابق صدر تنظیم اساتذہ پاکستان یاسمین جاوید‘ مرکزی جنرل سیکرٹری پاکیزہ روف ، جوائنٹ سیکرٹری زاہدہ شہاب صدر صوبہ سندھ شائستہ مدنی مرکزی انچارج شعبہ تربیت فرخندہ کمال ، صدر ضلع کراچی اسماء رضوان شامل تھیں۔ اس موقع پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ1۔ قومی نصاب میں اسلامی اقدار کو مؤثر انداز میں شامل کیا جائے۔ 2۔ امتحانی نظام سے نقل کے رجحانات کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔3۔ مصنوعی ذہانت میں اردو اور دینی مواد کو شامل کرنے کے لیے قومی سطح پر اقدامات کیے جائیں۔4۔ اساتذہ کی تربیت کے لیے مستقل پروگرامز کا انعقاد کیا جائے۔ تنظیم اساتذہ پاکستان ملک بھر کے اساتذہ کو علمی، اخلاقی اور فکری قیادت فراہم کرنے کے لیے ایسی کانفرنسوں اور ورکشاپس کا تسلسل سے انعقاد کرتی رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تنظیم اساتذہ پاکستان کے لیے

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم