پاکستان اور امریکا کا داعش، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے مل کر لڑنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
پاکستان اور امریکا کا داعش، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے مل کر لڑنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 13 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) پاکستان اور امریکا کے درمیان انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اعلی سطحی مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے ہیں، جن میں دونوں ممالک نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی(بی ایل اے)، داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مل کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق، مذاکرات کی مشترکہ صدارت پاکستان کے اسپیشل سیکریٹری خارجہ برائے اقوام متحدہ نبیل منیر اور امریکی محکمہ خارجہ کے قائم مقام کوآرڈینیٹر برائے انسدادِ دہشت گردی گریگوری ڈی لوگرفو نے کی۔اعلامیے کے مطابق فریقین نے اس امر پر زور دیا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے مقابلے کے لیے مربوط اور موثر حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔
دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور داعش خراسان جیسے گروہ خطے اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں، جن کا مکمل خاتمہ صرف قریبی تعاون اور بروقت کارروائیوں سے ممکن ہے۔امریکا نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف حالیہ برسوں میں حاصل کی جانے والی مسلسل کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سیکورٹی اداروں کی قربانیاں اور پیشہ ورانہ مہارت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔
اس موقع پر یہ بھی طے پایا کہ پاکستان اور امریکا انٹیلیجنس شیئرنگ، تربیتی پروگرامز اور مشترکہ آپریشنز کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے اقدامات مزید تیز کریں گے۔مذاکرات میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ انسدادِ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی کے بیانیے کو ختم کرنے اور نوجوان نسل کو شدت پسند نظریات سے محفوظ رکھنے کے لیے سماجی و تعلیمی اقدامات کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجشنِ آزادی: چیئرمین سی ڈی اے کی کیپیٹل ہسپتال میں خصوصی تقریب میں شرکت جشنِ آزادی: چیئرمین سی ڈی اے کی کیپیٹل ہسپتال میں خصوصی تقریب میں شرکت قومی اسمبلی: فورسز کو 3 ماہ کیلئے مشکوک شخص کی گرفتاری کا اختیار دینے کا بل منظور پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری کی جیل میں طبیعت بگڑ گئی، اسپتال منتقل.پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں گرما گرمی، تلخ جملوں کا تبادلہ یاسمین راشد کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں خارج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے آذربائیجان کے چیف آف جنرل سٹاف کی ملاقات
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان اور امریکا بی ایل اے ٹی ٹی پی
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔