امریکا نے روسی کرپٹو اسکیم میں گرفتاریوں پر 60 لاکھ ڈالر انعام رکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ روس کی زیرِ انتظام کرپٹو کرنسی اسکیم سے متعلق گرفتاریوں میں مدد دینے والی معلومات پر مجموعی طور پر 60 لاکھ ڈالر تک انعام دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں کرپٹو کرنسی کا پہلا اہم قومی قانون منظور، صدر ٹرمپ کے دستخط کے منتظر
ایف بی آئی اور سیکرٹ سروس کے مطابق گارانٹیکس (Garantex) نامی روسی کرپٹو کرنسی ایکسچینج پر الزام ہے کہ اس نے مجرموں اور سائبر کرائم گروپوں کے ذریعے ہیکنگ سافٹ ویئر، رینسم ویئر، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق اپریل 2019 سے مارچ 2025 کے دوران گارانٹیکس نے کم از کم 96 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی ٹرانزیکشنز پروسیس کیں۔
محکمہ خارجہ نے روسی شہری الیگزینڈر میرا سیردا اور گارانٹیکس کے دیگر رہنماؤں کے لیے بالترتیب 50 لاکھ اور 10 لاکھ ڈالر کے انعامات کا اعلان کیا ہے۔
امریکا نے گرینیکس (Grinex) کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو گارانٹیکس کے جانشین کے طور پر قائم کیا گیا ایک کرپٹو کرنسی ایکسچینج ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی محکمہ خارجہ امریکی محکمہ خزانہ روس کرپٹو کرنسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی محکمہ خارجہ امریکی محکمہ خزانہ کرپٹو کرنسی امریکی محکمہ کرپٹو کرنسی
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔