حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم نے لبنانی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کے کہنے پر سیکویرٹی فورسز ہمارے مدِ مقابل آئیں تو لبنان تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے ان خیالات کا اظہار ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی سے ملاقات کے بعد ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں کیا۔

اپنے خطاب میں انھوں نے زور دیکر کہا کہ جب تک اسرائیلی جارحیت جاری ہے اور قبضہ برقرار ہے، حزب اللہ ہتھیار نہیں پھینکے گی۔ ہم اس امریکا-اسرائیل گٹھ جوڑ کا مقابلہ کریں گے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے اپنے ہتھیاروں کے دفاع کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی حکومت تخفیفِ اسلحہ کے ذریعے ملک کو اسرائیل کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔

نعیم قاسم نے بتایا کہ فی الحال حزب اللہ اور امل تحریک نے امریکی حمایت یافتہ تخفیفِ اسلحہ منصوبے کے خلاف احتجاج ملتوی کر دیا کیونکہ بات چیت کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے۔

تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر یہ منصوبہ منسوخ نہ کیا گیا تو مستقبل میں احتجاج براہِ راست امریکی سفارت خانے تک پہنچ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ لبنان کی کابینہ نے ملکی فوج کو ایک سال کے اندر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا حکم دیا جسے حزب اللہ سمیت دیگر جماعتوں نے امریکی دباؤ میں لیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

 

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حزب اللہ

پڑھیں:

ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار

الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔

مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا ناپاک گٹھ جوڑ وطن عزیز کا امن تباہ نہیں کر سکتا: محسن نقوی
  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ