پی ٹی آئی رہنماؤں اورکارکنان کیخلاف مختلف مقدمات کی سماعتیں بغیرکارروائی ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف 26اور 4نومبر حتجاج کے مختلف مقدمات کی سماعتیں بغیر کارروائی ملتوی کردی گئیں۔انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 2کے جج طاہر عباس سپرا کی عدم دستیابی کے باعث مقدمات کی سماعت نہ ہو سکی، تھانہ کھنہ کے مقدمہ نمبر 242کی سماعت 13اکتوبر تک، تھانہ انڈسٹریل ایریا کے مقدمہ کی سماعت 8اکتوبر اور تھانہ سیکرٹریٹ کے مقدمہ نمبر 544 کی سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔اسی طرح تھانہ مارگلہ کے مقدمہ نمبر 236کی سماعت 27ستمبر تک ملتوی کی گئی ہے جبکہ رینجر اہلکاروں کو مبینہ طور پر کچلنے کا کیس بھی بغیر کارروائی ملتوی ہو گیا، ہاشم عباسی کے خلاف جاری ٹرائل کی سماعت بھی یکم اکتوبر تک ملتوی کی گئی ہے۔پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں، سماعت کے موقع پر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے سردار محمد مصروف خان اور مرتضیٰ طوری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کی سماعت کے مقدمہ
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔