جوڈیشل ورک سے روکنے کا معاملہ؛ جسٹس جہانگیری کی جلد سماعت کیلیے متفرق درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
جوڈیشل ورک سے روکنے کے معاملے پر جسٹس طارق جہانگیری نے کیس کی جلد سماعت کے لیے متفرق درخواست دائر کر دی۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ 22 ستمبر سے 26 ستمبر تک کے رواں عدالتی ہفتے میں اپیل فکس کریں۔
جسٹس طارق نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ فوری مداخلت کرے تاکہ میں جوڈیشل ورک شروع کر سکوں، مجھے بطور جج جوڈیشل ورک سے روکنے کا حکم مجھے سنے بغیر دیا گیا، میرے خلاف ہائیکورٹ میں دائر کی گئی رٹ کے قابل سماعت ہونے کا تعین کیے بغیر مجھے جوڈیشل ورک سے روکا گیا۔
درخواست میں موقف دیا کہ جج کو کام سے روکنے کا حکم برقرار رہا تو اس سے مقدمہ بازی کا نیا سیلاب امڈ آئے گا، کسی جج کے خلاف کوئی شکایت زیر التوا ہونے کے سبب کسی بھی جج کے خلاف درخواست آجائے گی کہ اسے جوڈیشل ورک سے روکا جائے۔
جسٹس طارق جہانگیری نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ ایسے واقعات روکنے کے لیے فوری مداخلت کرے، اپیل اسی ہفتے سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان جوڈیشل ورک سے سے روکنے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں