اسلامی نظریاتی کونسل نے رقم نکالنے پر ودہولڈنگ ٹیکس کو غلط قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
اسلامی نظریاتی کونسل نے رقم نکالنے پر ودہولڈنگ ٹیکس کو غلط قرار دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس چیئرمین راغب نعیمی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف امور پر بات کی گئی جس کے بعد اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
اعلامیے میں اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ بینک سے رقم نکالنے پر حکومت کا عائد کردہ ود ہولڈنگ ٹیکس غیر شرعی اور زیادتی کے مترادف ہے۔
انسانی دودھ ذخیرہ کرنے کا معاملہ
اسی طرح انسانی دودھ ذخیرہ کرنے کے معاملے پر کونسل نے کہا ہے کہ دودھ ذخیرہ کرنے کے مخصوص ادارے قائم کیے جا سکتے ہیں، ذخیرہ کرنے کے ادارے مخصوص شرائط کے تحت قائم کئے جا سکتے ہیں تاہم مفاسد سے بچنے کے لیے پہلے لازمی قانون سازی کی جائے اور انسانی دودھ کے حوالے سے قانون سازی میں کونسل کو شامل کیا جائے۔
دیت کے قانون میں ترمیم کی مخالفت
اسلامی نظریاتی کونسل نے دیت کے قانون میں ترمیم کی شقوں کی مخالفت کردی، دیت کے قانون میں ترمیم کے لیے پیش کردہ بل سے اتفاق نہیں کرتے، دیت کی سونا چاندی اور اونٹ سے متعلق شرعی مقداریں قانون میں شامل رہنی چاہیئں بل میں چاندی کو حذف اور سونے کی غیر شرعی مقدار کو معیار بنایا گیا ہے۔
خنزیر کے اجزا والی انسولین سے پرہیز کیا جائے، کونسل
کونسل کا کہنا ہےکہ شوگر کے مریضوں کے لیے حلال اجزا والی انسولین دستیاب ہے اس لیے حلال اجزا والی انسولین کی دستیابی پر خنزیر کے اجزاء پر مشتمل انسولین سے پرہیز کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلامی نظریاتی کونسل نے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔