Express News:
2026-07-24@05:15:41 GMT

پاکستان افغانستان تعلقات کی پیچیدگیاں

اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT

پاکستان افغانستان تعلقات ایک مشکل دوراہے پر ہیں۔ایک دوسرے کے بارے میں بداعتمادی اور خدشات کا بڑھنا ظاہر کرتا ہے کہ دونوں اطراف سے ان معاملات کو سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔لیکن ایسے لگتا ہے کہ افغانستان ان معاملات کو حل کرنے میں کسی بھی طرح کوئی بڑی سنجیدگی دکھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

پاکستان داخلی دہشت گردی اور تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کے حوالے سے جو تحفظات کافی عرصے سے افغانستان کے سامنے پیش کررہا ہے، اس پر افغان طالبان کا طرز عمل وہ نہیں جو پاکستان کو درکار ہے۔

اگرچہ افغانستان کی طالبان حکومت ایک سے زیادہ مرتبہ پاکستان کو یہ یقین دہانی کراچکی ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے کسی کو بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔لیکن اس یقین دہانی کے باوجود افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ہورہی ہے ، افغانستان کی طالبان حکومت ٹی ٹی پی کی سہولت کاری بھی کررہی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کا داخلی سیکیورٹی بحران بڑھ رہا ہے اور اس کے تانے بانے افغانستان سے جڑے ہوئے ہیں جو صرف ان دونوں ممالک کے لیے ہی نہیں بلکہ خطہ کے مجموعی امن اور سیکیورٹی کے لیے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔

اسی بنیاد پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے پہلی بار افغان حکومت کو واضح اور دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ وہ اب خوارج یعنی دہشت گرد یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے۔ان کے بقول اب پاکستان میں افغان حکومت یا ان کی سہولت کاری کی مدد سے کام کرنے والی ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا بلکہ طاقت کی بنیاد پر اس سے نمٹا جائے گا اور اس پر کسی بھی سطح پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

پہلی بار وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان ہمارا دشمن ملک اور اب ہمیں اس سے کوئی اچھائی کی توقع نہیں اور ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔یہ سب کچھ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب کچھ ہفتے قبل پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالات کی بہتری کے لیے سفارت کاری اور ڈپلومیسی کا عمل چل رہا تھا۔لیکن ایسے لگتا ہے کہ معاملات حل ہونے کے بجائے اور زیادہ بگاڑ کی طرف چلے گئے ہیں ۔کیونکہ افغان حکومت کی جانب سے بھی پاکستان پر الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے اور ان کے بقول پاکستان کی حکومت اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ہم پر الزام عائد کرکے خود کو سیاسی طور پر بچانے کی کوشش کررہی ہے ۔

اس لیے پاکستان ہم پر داخلی سطح پر ہونے والی دہشت گردی کا ملبہ ڈال کر خود کو بچانے اور دو طرفہ تعلقات میں خرابیاں پیدا کررہا ہے۔معروف تجزیہ کار کامران یوسف کی رپورٹ کے بقول پاکستانی حکام نے اس بات کا تعین کیا ہے کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کے حالیہ حملوں میں ملوث 70فیصد عسکریت پسند افغان شہری تھے۔یہ تعداد گزشتہ برسوں میں ریکارڈ کیے گئے 5سے 10 فیصد کی شرح سے بہت زیادہ ہے ۔ان کے بقول اگرافغان طالبان حکومت نے ان معاملات پر ٹھوس اقدامات نہ کیے تو یہ نقطہ اہم فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے۔

اگرچہ حالیہ دنوں میں افغان حکومت نے پاکستان کی جانب سے دھمکی آمیز لہجے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ان کے بقول بات چیت اور اعتماد سازی کے ساتھ بات کو آگے بڑھانا ہوگا۔لیکن افغان حکومت یہ بھول رہی ہے کہ پاکستان نے دو طرفہ تعلقات کی بہتر ی سمیت داخلی دہشت گردی اور ٹی ٹی پی کی پاکستان مخالف سرگرمیوں یا دہشت گردی پر ہمیشہ بات کی اور اپنے تحفظات سے بارہا آگاہ کیا مگر افغان حکومت نے نہ تو مثبت جواب دیا اور نہ ہی ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی بڑا اقدام اٹھایا جو ظاہر کرتا ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے تحفظات پر کسی بھی عملی اقدام کے لیے تیار نہیں۔

ایک طرف پاکستان کو ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان کے داخلی محاذ پر دہشت گردی کا سامنا ہے تو دوسری طرف بھارت افغانستان کو پاکستان مخالف سرگرمیوں اور ٹی ٹی پی کو سہولت کاری بھی کررہا ہے۔بھارت، افغانستان اور ٹی ٹی پی کا باہمی گٹھ جوڑ پاکستان مخالف سرگرمیوں کا مرکز ہے اور اسی تناظر میں ہمیں ان ممالک سے پراکسی جنگ کا سامنا ہے جو ہماری داخلی سیکیورٹی کے نظام کو چیلنج بھی کرتا ہے اور نئے خطرات کو پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے۔

اب امریکا نے افغانستان سے بگرام ائربیس مانگنے کا مطالبہ کیا ہے اور دھمکی دی ہے اگر افغان حکومت نے ایسا نہ کیا تواس کو اس کے سنگین سطح کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔طالبان نے فوری طور پر امریکی مطالبہ کو مسترد کردیا ہے ۔لیکن ساتھ ساتھ بات چیت کا عندیہ بھی دیا ہے اور یقیناً افغان حکومت امریکا سے چند بڑی سیاسی اور مالی شرائط کے ساتھ اس پر رضا مند بھی ہوسکتی ہے۔لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ اگر افغان حکومت ایسا کرتی ہے تو اس پر چین کا کیا ردعمل ہوگا اور کیا چین کو ناراض کرکے افغان حکومت اپنی ائر بیس دے سکتی ہے۔

اسی طرح اگر امریکا اس ائر بیس کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کے پیچھے اس کے اصل مقاصد کیا ہیں اور پاکستان پر اس ائر بیس کے تناظر میں داخلی سطح پر کیا اثرات پیدا ہوںگے اس پر غور وفکر کی ضرورت ہے۔اسی طرح ایک سوال یہ بھی ہے کہ اس وقت پاکستان امریکا اور چین کے ساتھ بہتری پر مبنی تعلقات کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں بڑے ممالک پاکستان کو سفارتی سطح پر فوقیت دے رہے ہیں۔

ایسے میں کیا چین اور امریکا اپنی سطح پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود بگاڑ کو ختم کرنے میں کوئی کلیدی کردار ادا کریں گے اور کیا بھارت وافغانستان کی باہمی مداخلت جو پاکستان مخالف ہے اس کو ختم کرنے میں کوئی بڑا کردارادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔کیونکہ ایسے لگتا ہے اب چین اور امریکا کی بڑی حمایت اور سفارت کاری کے بغیر پاکستان اور افغانستان کا بحران حل نہیں ہوسکے گا ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان مخالف افغان حکومت ہے کہ افغان پاکستان کو پاکستان کے ٹی ٹی پی کی ان کے بقول حکومت نے کسی بھی کرتا ہے کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم