کے پی کابینہ کی منظوری: مردان میں 9 مئی کا توڑ پھوڑ اور فائرنگ کیس واپس لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
خیبرپختونخوا حکومت نے 9 مئی 2023 کو مردان میں پیش آنے والے توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے مقدمے کو واپس لینے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کیس میں عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس پر پتھراؤ کے الزامات شامل تھے۔
نجی ذرائع کے مطابق، کیس کی پیروی کے لیے حکومت نے پبلک پراسیکیوٹر کا تبادلہ کر دیا ہے، جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انعام اللہ کو اس مقدمے کے لیے اسپیشل پراسیکیوٹر مقرر کیا گیا ہے۔ انعام اللہ نے ایڈیشنل ہوم سیکرٹری کی جانب سے کیس واپس لینے کی سفارش عدالت میں جمع کرا دی ہے۔
عدالت نے معاملے کی سماعت کے لیے15 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے، جس میں کیس کی واپسی کی قانونی حیثیت پر غور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 9 مئی کو مردان میں سیاسی کشیدگی کے دوران ہونے والے احتجاج میں پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعات پیش آئے تھے، جن میں کارکنان، راہگیر اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ اس کیس میں جن افراد کو نامزد کیا گیا تھا، ان میںایم این اے مجاہد خان، ظاہر شاہ طورو اور دیگر شامل ہیں۔
9 مئی کے واقعات ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور بدامنی کی علامت بنے تھے، جن کے بعد کئی مقدمات قائم کیے گئے۔ اب خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے اس مخصوص کیس کو واپس لینے کا فیصلہ سیاسی و قانونی حلقوں میں بحث کا موضوع بن رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: واپس لینے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔