پاکستان کو عالمی حالات کے مطابق خارجہ ودفاعی پالیسیاں بنانا ہوں گی، جسارت میں مذاکراہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251007-01-20
کراچی (اسٹاف رپورٹر) بین الاقوامی امور کے ممتاز ماہرین تعلیم اور قومی سطح کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان کو اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کو نئے تقاضوں کے مطابق ازسرِنو مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ ہفتے کو روزنامہ جسارت فورم میں منعقدہ ایک فکری سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سیمینار سے ممتاز ماہر بین الاقوامی تعلقات پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر، جامعہ کراچی کی ماہر بین الاقوامی قانون ڈاکٹر شائستہ تبسم اور جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ بن رضی نے خطاب کیا، جبکہ میزبانی کے فرائض معروف محقق و تجزیہ نگار جہانگیر سید نے انجام دیے۔مقررین نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ابھرنے والے نئے سیاسی اتحاد، توانائی کے وسائل پر بڑھتی مسابقت اور عالمی طاقتوں کی بدلتی ترجیحات کے نتیجے میں پاکستان کے لیے ایک متوازن، فعال اور خودمختار خارجہ پالیسی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ قومی مفاد کے تحفظ کے لیے علاقائی تعاون اور سفارتی حکمت عملی میں ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر اپنے کردار کو مؤثر بنانے کے لیے تعلیمی و سائنسی سفارت کاری کو فروغ دینا ہوگا۔ وہ 36 سالہ تدریسی و تحقیقی خدمات کے حامل ممتاز ماہر بین الاقوامی تعلقات ہیں اور مشرق وسطیٰ سمیت عالمی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ جامعہ کراچی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی پروفیسر اور سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹس و سوشل سائنسز ڈاکٹر شائستہ تبسم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں ایٹمی پھیلاؤ، آبی و ماحولیاتی تنازعات اور عالمی قانون کے تناظر میں پاکستان کو مضبوط سفارتی موقف اختیار کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ بن رضی نے کہا کہ عالمی سیاست میں ابھرنے والے نئے رجحانات کو سمجھے بغیر کوئی قوم اپنی داخلہ و خارجہ پالیسیوں کو مستحکم نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کے مسائل کا حل باہمی اتحاد اور اصولی مؤقف اپنانے میں ہے۔
کراچی:جسارت کے زیر اہتمام ’’ملکی سیاست، مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور دفاعی تعاون ‘‘پرمذاکرے کے شر کا کا جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی،ڈاکٹر مونس احمر اور ڈاکٹر شائستہ تبسم کاچیف ایڈیٹر شاہنواز فاروقی ، چیف آپریٹنگ آفیسرسید طاہر اکبرو دیگر کیساتھ گروپ فوٹو
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی پاکستان کو نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔