انو ملک پر جنسی ہراسانی کا الزام؛ گلوکارہ کے تازہ انکشافات نے ہلچل مچا دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
’’میری انڈسٹری نے مجھے تنہا چھوڑ دیا تھا‘‘ بھارت کی میڈونا آف انڈیا کہلائی جانے والی علیشا چنائے کے ہولناک انکشافات نے بالی ووڈ کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ کی مشہور پاپ سنگر، ’میڈونا آف انڈیا‘ علیشا چنائے نے 1996 میں موسیقار انو ملک پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے تھے لیکن ان کی انڈسٹری الٹا ان کے خلاف ہی ہوگئی تھی۔
علیشا چنائے نے تازہ انٹرویو میں ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب میں اس زیادتی کے خلاف کھڑی ہوگئی تو پوری انڈسٹری میرے خلاف ہوگئی۔ یہاں تک کہ مجھے کام ملنا بند ہوگیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ میری اپنی انڈسٹری نے میرا ساتھ چھوڑ دیا اور میرا کیریئر تقریباً ختم ہی ہوگیا۔ اس سے چند طاقتور ہستیوں کے انڈسٹری پر کنٹرول کو سمجھا جا سکتا ہے۔
علیشا نے مزید بتایا کہ میں انو ملک کی جنسی ہراسانی پر ان کے خلاف کیس کو آگے نہیں بڑھانا چاہتی تھیں مگر میرے شوہر نے اور منیجر راجیش نے بھی زور دیا کہ انصاف کے لیے کھڑی ہونا ضروری ہے۔
گلوکارہ نے بتایا کہ ان دونوں کی حوصلہ افزائی پر میں نے ہچکچاہٹ کے ساتھ کیس کو چلانے کا قدم اٹھایا لیکن جیسے ہی سب کچھ میڈیا میں آیا، الٹا میرے خلاف ہی ماحول بنا دیا گیا۔
علیشا نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ مردوں کی دنیا تھی، اس لیے کیس فوراً رد کردیا گیا تاہم، بعد میں جب #MeToo تحریک چلی اور کئی خواتین نے انو ملک کے خلاف آواز اٹھائی تو میں نے کھل کر حمایت کی۔
گلوکارہ علیشا نے کہا کہ گو اُس وقت میرا کسی نے ساتھ نہ دیا لیکن اب وقت بدل گیا ہے اب یہ عورتوں کو کئی حقوق حاصل ہیں اور سنوائی بھی ہو رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سخت تنازع کے باوجود انو ملک اور علیشا چنائے 2003 میں فلم ’عشق وشق‘ میں اکٹھے ہوئے اور بعد میں انڈین آئیڈل میں جج بھی ساتھ بنے تھے۔
اس پر علیشا چنائے کا کہنا تھا کہ موسیقار انو ملک نے ان سے ذاتی طور پر اپنی غلطی پر معافی مانگی تھی اور کہا کہ وہ غلط تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علیشا چنائے انو ملک کے خلاف کہا کہ
پڑھیں:
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سیکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع، کون سی خفیہ معلومات افشا کی؟
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کی سیکیورٹی پر مامور ایک سیکرٹ سروس اہلکار کے خلاف مبینہ طور پر حساس معلومات افشا کرنے کے الزام میں انتظامی اور ممکنہ فوجداری تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کی اہلیہ اوشا وینس کے ہاں چوتھے بچے کی پیدائش
امریکی سیکرٹ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی دستے سے تعلق رکھنے والا ایک اہلکار ایسے الزامات کی زد میں ہے جن کا تعلق آپریشنل اور معلوماتی سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس معاملے کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا تاہم سیکرٹ سروس کے زیرِ حفاظت شخصیات کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی طرز عمل کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹ میں کیا دعویٰ کیا گیا؟امریکی نشریاتی ادارے ایم ایس ناؤ کی گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی سیکیورٹی ٹیم ان کی ذاتی نوعیت کی سفری درخواستوں سے نالاں تھی۔
مزید پڑھیے: جے ڈی وینس کا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے خلاف اسرائیلی اراکین کی سازش کا انکشاف
رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے ایک موقع پر خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو فوجی ہیلی کاپٹر ’میرین 2‘ کے ذریعے واشنگٹن کے قریب واقع جوائنٹ بیس اینڈریوز کے محفوظ گالف کورس لے جائیں تاکہ وہ گالف کی تربیتی کلاس میں شرکت کر سکے۔
تاہم خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز بعد ازاں منسوخ کر دی گئی تھی۔
تحقیقات جاریسیکرٹ سروس نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور اہلکار کے خلاف انتظامی کارروائی کے ساتھ ساتھ ممکنہ فوجداری پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ’ہم آپ کے شکر گزار ہیں ‘، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نائب صدر سمیت اہم سرکاری شخصیات کی سیکیورٹی سے متعلق معلومات کے افشا ہونے کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے کیونکہ اس سے حفاظتی انتظامات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جے ڈی وینس کی خفیہ معلومات جے ڈی وینس کے سیکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات خفیہ راز افشا