UrduPoint:
2026-07-24@01:26:23 GMT

پراگ سے بوڈاپیسٹ: ووٹرز کے بڑے تحفظات ہجرت اور یوکرینی جنگ

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

پراگ سے بوڈاپیسٹ: ووٹرز کے بڑے تحفظات ہجرت اور یوکرینی جنگ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 01 اکتوبر 2025ء) جمعہ اور ہفتہ کو ہونے والے چیک انتخابات سے پہلے، اے ایف پی نے یورپی یونین کے رکن ممالک چیک جمہوریہ، ہنگری اور سلوواکیہ کے ووٹروں سے بات کی۔

'ہمارے ملک پر توجہ دیں‘

چیک ری پبلک کے ایک شمالی قصبے فریڈلانٹ کے ایک چوک میں، ریٹائرڈ ٹیچر ستانسلاوا کراؤسووا نے ارب پتی سابق وزیر اعظم آندرے بابش کا خطاب سنا، جو خود کو ''ٹرمپسٹ‘‘ کہتے ہیں اور چیک مفادات کو سب سے مقدم رکھنے اور یوکرین کے لیے فوجی امداد میں کٹوتی کا عزم رکھتے ہیں۔

توقع ہے کہ ان کی 'اے این او‘ پارٹی 10.

9 ملین کی آبادی والے اس ملک میں تقریباً 30 فیصد حمایت کے ساتھ انتخابات میں سرفہرست رہے گی، جس سے وہ ایک مخلوط حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں آ جائیں گے۔

(جاری ہے)

وسطی یورپ میں دائیں بازو کے عوامیت پسندوں کا نیٹ ورک

جرمن ریٹائرڈ شہری ہنگری کیوں منتقل ہو رہے ہیں؟

کراؤسووا نے اے ایف پی کو بتایا، ''ہمیں سب سے پہلے اپنے ملک پر توجہ دینا چاہیے اور اپنے مسائل حل کرنا چاہییں۔

‘‘ ان کے بقول ہجرت ''آسان الفاظ میں قابو سے باہر ہو گئی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ''ہمارے اپنے لوگوں کے پاس یہاں نوکریاں نہیں ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کتنے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں اور اس لیے دوسروں کو قبول کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا، خاص طور پر افغانوں، شامیوں، بلکہ یہاں تک کہ یوکرینیوں کو بھی نہیں۔‘‘

کراؤسووا نے کہا کہ ان کا پورا خاندان بابش کا ''مداح‘‘ ہے، جو یوکرین میں جنگ بندی کے مطالبات کی حمایت کر رہے ہیں: ''وہاں بہت سے نوجوان لوگ مر چکے ہیں۔

لہٰذا میں یقینی طور پر پرامن حل کے حق میں ہوں، قطع نظر اس کے کہ وہ یہ کیسے کرتے ہیں۔‘‘

قریبی قصبے ہیجنیس میں ایلیسکا ایک ریٹائرڈ ٹیچر ہیں۔ انہوں نے اپنا خاندانی نام بتانے سے احتراز کیا۔ وہ اپنے اس کتے کے ساتھ چل رہی تھیں، جس کا نام 71 سالہ ٹائیکون کے نام پر بابش رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ٹوکیو میں پیدا ہونے والے کاروباری ٹومیو اوکامورا کی دائیں بازو کی انتہا پسند فریڈم اینڈ ڈائریکٹ ڈیموکریسی (SPD) تحریک کو ووٹ دے رہی ہیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ''مجھے لگتا ہے کہ ایس پی ڈی اس بات میں درست ہے کہ ہجرت ایک بڑا خطرہ ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ آنے والوں کی ثقافت ''ہماری (ثقافت) سے بہت مختلف ہے۔‘‘

'ہنگری کے لیے اٹھ کھڑے ہوں‘

چیک ری پبلک سے مزید جنوب میں واقع ملک ہنگری میں قوم پرست وزیر اعظم وکٹور اوربان کی 2010 سے جاری حکمرانی کو اب ایک سابق اتحادی سے چیلنج کا سامنا ہے، جو آئندہ برس کے انتخابات سے پہلے اب اپوزیشن کی قیادت کر رہے ہیں۔

لیکن دیہی علاقوں میں اوربان اب بھی ووٹرز کی حمایت پر انحصار کر سکتے ہیں۔ 2010 سے ان کے اتحاد نے پارلیمانی انتخابات میں تقریباً ہر دیہی حلقہ جیتا ہے۔

تقریباً 4,500 آبادی والے قصبے کینڈریس میں کیشیئر ارما سوموڈی کا کہنا ہے کہ اوربان کے لیے ان کی پسندیدگی خواتین کے لیے حکومتی پروگرام سے پیدا ہوئی ہے، جو انہیں 40 سال کام کے بعد ریٹائر ہونے کی اجازت دیتا ہے۔

اس 59 سالہ خاتون نے اے ایف پی کو بتایا، ''مجھے یہ بھی پسند ہے کہ وہ ہنگری کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ پناہ گزینوں کو ملک میں نہیں آنے دیتے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''اس وقت یہاں کوئی نوکریاں نہیں ہیں، اگر مہاجرین آ گئے تو صورت حال اور بھی بدتر ہو جائے گی۔‘‘

دیگر لوگ وزیر اعظم اوربارن کو ہنگری کو یوکرینی تنازعے سے باہر رکھنے کا کریڈٹ بھی دیتے ہیں۔

45 سالہ کاروباری شخصیت روڈولف برائی کے مطابق، ''اشیائے خوراک اور دیگر چیزیں زیادہ مہنگی ہو سکتی ہیں، لیکن کم از کم ہمیں زبردستی بھرتی ہونے اور اپنے خاندانوں کو پیچھے چھوڑنے کا خوف نہیں ہے۔‘‘

'کوئی اور نہیں‘

سلوواکیہ کے ایک مغربی قصبے ٹوپولکینی میں، جہاں قوم پرست وزیر اعظم رابرٹ فیکو پیدا ہوئے اور پلے بڑھے، ایک 63 سالہ ریٹائرڈ شخص ایوان ہرڈا نے کہا کہ وہ ہمیشہ انہیں ووٹ دیتے ہیں کیونکہ ''کوئی اور اس کام کے قابل نہیں ہے۔

‘‘

فیکو 2023 میں اقتدار میں واپس آئے، لیکن اپنے ملک کو روس کے قریب لانے پر اب ان کے خلاف احتجاج دیکھا گیا ہے، جس میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات بھی شامل ہے۔

ہرڈا نے کہا، ''جب وہ روس میں ہوتے ہیں تو ہنگامہ کیوں ہونا چاہیے؟‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب فیکو نے امریکہ، برطانیہ یا فرانس کا دورہ کیا تو ''کسی نے شور نہیں مچایا۔

‘‘

ہرڈا کے بقول، ''آج اپوزیشن جو کچھ کر رہی ہے وہ حماقت ہے، مجھے معاف کرنا، لیکن یوکرین کی چاپلوسی کرنا اور اسرائیل کو نظرانداز کرنا۔ یہ مکمل حماقت ہے۔‘‘

لیکن اس قصبے میں دیگر لوگ، جو فیکو کی سمیر Smer پارٹی کا گڑھ ہے، مایوس ہیں۔

70 سالہ ایوا کونیکنا اور 77 سالہ ماریا اُرسولووا کے مطابق وہ فیکو کو ان کے بچپن سے جانتی ہیں لیکن اب انہیں مزید ووٹ نہیں دیں گی۔

کونیکنا کے بقول، ''ہم بڑھتی ہوئی قیمتوں سے تنگ آ چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی معمولی پنشن ''کرائے اور ادویات کے لیے بھی کافی نہیں ہے۔‘‘

ادارت: مقبول ملک

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اے ایف پی انہوں نے نے کہا کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف