دودھ 400 روپے فی لیٹر سے کم دستیاب نہیں ہوگا، ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
کراچی: ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے دودھ کی قیمتوں کے تعین سے متعلق 11 اکتوبر تک عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں آئندہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا اعلان کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے ترجمان غلام شبیر ڈار نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دودھ کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ پانچ، چھ سو روپے فی من ملنے والا بھوسہ اب بارہ سو روپے فی من تک پہنچ گیا ہے اور جانوروں کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے۔
انہوں نے کہا کہ مجبوری کے تحت دودھ کی قیمت 250 روپے فی کلو کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اگر حق نہ دیا گیا تو 11 اکتوبر کے بعد احتجاج کریں گے اور عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا۔
غلام شبیر ڈار نے مزید کہا کہ “پروڈکٹ ہماری ہے، اس لیے کمیٹی میں ڈیری فارمرز کا نمائندہ شامل ہونا چاہیے۔
ترجمان نے خبردار کیا اگر ڈیری فارمرز کو دیوار سے لگایا گیا تو 2026 میں 400 روپے فی لیٹر بھی دودھ نہیں مل سکے گا، اس لیے حکومت کو فی الفور ڈیری فارمرز کے مطالبات تسلیم کرنے چاہییں۔
یاد رہے ڈیری فارمرز نے دودھ کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے گیارہ اکتوبر سے قیمت 300 روپے فی لیٹر کرنے کی دھمکی دی ہے۔
کمشنر ہاؤس کراچی میں دودھ کی قیمتوں سے متعلق ہونے والا اجلاس بےنتیجہ ختم ہوا تھا ، اجلاس میں ڈیری فارمرز، ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے حکومت سے فوری طور پر دودھ کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے مطابق حالیہ سیلاب نے ڈیری سیکٹر کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث دودھ کی پیداواری لاگت میں 30 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ فارمرز کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ تقریباً 3 ارب روپے کا نقصان برداشت کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن دودھ کی روپے فی
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔