سستی توانائی کے میدان میں خیبر پختونخوا نے اہم سنگ میل عبور کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا حکومت نے 2025 کے دوران صاف اور سستی توانائی کے میدان میں اہم سنگ میل عبور کر لیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے مطابق صوبے میں 62.8 میگاواٹ کے تین ہائیڈرو پاور منصوبے مکمل کر لیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ 40.8 میگاواٹ کوٹو، 11.8 میگاواٹ کرورہ اور 10.2 میگاواٹ جبوری منصوبے مکمل ہوگئے ہیں جن سے سالانہ 347 ملین یونٹس صاف بجلی کی پیداوار شروع ہوگی، منصوبوں سے صوبے کو سالانہ 4.
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں سے عوام کو مزید سستی اور معیاری بجلی کی فراہمی ممکن ہوگئی، صاف توانائی کے فروغ سے مقامی صنعتوں اور روزگار کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے تحت مزید ہائیڈرو پاور منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، قدرتی آبی وسائل کے مؤثر استعمال سے توانائی میں خود کفالت کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ صاف توانائی، خوشحال معیشت اور مضبوط خیبر پختونخوا حکومت کی ترجیح ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔