data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

قاہرہ: غزہ امن معاہدے کے ابتدائی مرحلے پر دستخط کے فوراً بعد فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض معاہدہ کافی نہیں بلکہ اس پر حقیقی اور مکمل عملدرآمد ہی امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق حماس نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو تمام شرائط کا پابند بنائیں اور کسی بھی تاخیر یا وعدہ خلافی کو روکنے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

مزاحمتی تنظیم کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جس معاہدے پر فریقین کے درمیان اتفاق ہوا ہے، اس کے بنیادی نکات میں غزہ پر جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا، انسانی امداد کی بحالی اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ماضی کے تلخ تجربات کی بنیاد پر یہ اندیشہ موجود ہے کہ اسرائیل کسی نہ کسی مرحلے پر وعدوں سے انحراف کر سکتا ہے، لہٰذا اس بار عالمی برادری کو واضح اور غیر جانب دار کردار ادا کرنا ہوگا۔

حماس نے امریکا، قطر، مصر، ترکی اور دیگر بین الاقوامی ضامنوں سے اپیل کی کہ وہ نہ صرف اس عمل کی نگرانی کریں بلکہ شفاف اور غیر جانبدار نظام کے تحت اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسرائیل کسی بھی صورت میں معاہدے سے انحراف نہ کرے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم اپنے وعدوں پر قائم ہیں، لیکن اپنی قوم کی آزادی، خودمختاری اور حقِ خودارادیت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

تنظیم نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل نے ایک بار پھر دھوکے یا تاخیر کی پالیسی اختیار کی تو فلسطینی عوام مزاحمت کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے کیوں کہ امن تبھی ممکن ہے جب قابض افواج مکمل طور پر غزہ چھوڑیں اور محصور شہریوں کو ان کے گھروں، روزگار اور بنیادی انسانی حقوق تک رسائی دی جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل اور حماس نے امریکی ثالثی میں ہونے والے غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے کی منظوری دی تھی، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اسے تاریخی پیش رفت قرار دیا تھا، تاہم فلسطینی عوام اور مزاحمتی تنظیموں نے اس اعلان کا خیرمقدم محتاط امید کے ساتھ کیا ہے، کیونکہ ماضی میں اسرائیل نے کئی مرتبہ امن وعدوں کو یکطرفہ فیصلوں میں بدل دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حماس کے خدشات دور کیے گئے اور معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہوا تو یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں گزشتہ ایک دہائی کی سب سے بڑی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر یہ ایک اور ناکام امن منصوبہ بن سکتا ہے، جس کا خمیازہ غزہ کے مظلوم عوام کو بھگتنا پڑے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ