Express News:
2026-07-24@05:31:21 GMT

بغیر نگرانی انٹرا پارٹی انتخابات

اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی قوانین میں ترمیم کی سفارش کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات کی نگرانی کا اختیار مانگ لیا ہے اور الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 208 میں ترمیم کی سفارش کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات کی سفارش کا اب جو اختیار مانگا ہے۔

 اس میں بہت تاخیر کی گئی ہے، یہ اختیار تو اس وقت ملنا چاہیے تھا جب سیاسی پارٹیوں کی الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کا فیصلہ ہوا تھا۔ انتخابات میں شرکت کے لیے ہر سیاسی جماعت خود کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کراتی ہے، جس کے لیے انٹرا پارٹی انتخابات کی شرط موجود ہے مگر انٹرا پارٹی انتخابات کرانے اور اس کی نگرانی کا اختیار سیاسی پارٹیوں ہی کے پاس ہے جو زیادہ تر بند کمروں میں بیٹھ کر عہدے بانٹ لیتی ہیں اور الیکشن کمیشن کو عہدیداروں کی فہرست بھیج کر انتخابی نشان حاصل کرنے کی حق دار بن جاتی ہیں۔

پاکستان میں جماعت اسلامی واحد سیاسی جماعت ہے، جس میں اس کے اپنے طریقہ کار کے مطابق وقت مقررہ پر امیر جماعت کے لیے ملک بھر میں موجود جماعتی ذمے داروں سے رائے مانگی جاتی ہے اور ذمے داروں کو کچھ افراد کے نام دیے جاتے ہیں ان کے علاوہ بھی ووٹ دینے والے کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی اور کو بھی ووٹ دے سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی میں کوئی خود کو امیدوار کے طور پر پیش نہیں کرتا بلکہ کارکردگی کے باعث جماعت اپنے امیر کے امیدوار نامزد کرتی ہے اور جن لوگوں کو امیر کے انتخابات کے لیے ووٹ کا حق ہوتا ہے۔

 وہ اپنی مرضی سے اپنا ووٹ استعمال کرکے اپنا فیصلہ اوپر بھجوا دیتے ہیں اور جماعت اپنے طریقہ کار کے مطابق سب سے زیادہ ووٹ لینے والے کی کامیابی کا اعلان کرتی ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، سب فیصلہ تسلیم کرتے ہیں اور نیا امیر حلف اٹھا کر طریقہ کار کے مطابق باقی عہدیداروں کا فیصلہ کر کے اعلان کر دیتا ہے جس کی وجہ سے کبھی کسی امیر پر تنازعہ نہیں کھڑا ہوا۔

کسی حد تک جے یو آئی میں بھی بیرونی نگرانی کے بغیر ہی انتخابات ہوتے ہیں ، مولانا فضل الرحمن ہی کئی سالوں سے بلا مقابلہ سربراہ منتخب ہو رہے ہیں۔ راقم کو گزشتہ دنوں جے یو آئی ضلع وسطی کراچی کے انتخابات دیکھنے کا موقعہ ملا تھا جو دستگیر ایف بی ایریا کی ایک بڑی جامع مسجد میں بعد نماز عشا منعقد ہوئے جن میں بلاشبہ ہزاروں کارکن ووٹ دینے آئے تھے اور مسجد کے اندرونی چار بڑے دروازے بند کر کے مسجد کے جماعت والے ہال میں ایک دروازہ کھلا رکھا گیا تھا اور باہر مسجد کے بڑے صحن میں ووٹ کا حق رکھنے والے کارکنوں کو فہرست میں نام دے کر ووٹ کی پرچی دی جا رہی تھی اور پرچی دیکھنے کے بعد اسے مسجد کے جماعت والے ہال میں داخل ہونے دیا جا رہا تھا۔

ووٹوں کی پرچی کا عمل مکمل ہونے کے بعد داخلے کا گیٹ بند کر دیا گیا اور باہر موجود سیکڑوں کارکن شیشے لگے پانچ بڑے دروازوں سے اندر ہونے والی ووٹنگ دیکھ رہے تھے اور الیکشن کرانے والے شفاف ووٹنگ کی نگرانی کر رہے تھے جنھوں نے ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد کامیاب امیدواروں کا اعلان کیا۔

ہر بڑی جماعت میں جنرل کونسل یا مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس دکھاوے کے لیے ہوتا ہے اور طے شدہ پروگرام کے تحت پارٹی سربراہ حسب سابق بلامقابلہ منتخب ہوتا آیا ہے اور سربراہ کی مرضی کے باقی عہدیدار بھی زیادہ تر بلامقابلہ منتخب کر لیے جاتے ہیں یا ضرورت کے مطابق تبدیلی کر کے انٹرا پارٹی الیکشن کا اعلان کر کے الیکشن کمیشن کو تحریری اطلاع دے دی جاتی ہے مگر انتخابی عمل میں الیکشن کمیشن کو نگرانی کا اختیار نہیں ہوتا وہ انٹرا پارٹی الیکشن کو تسلیم کر لیتا ہے۔

پی ٹی آئی نے پہلی بار جمہوری طور پر انٹرا پارٹی الیکشن اپنے غیر جانبدار رہنما جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کی سربراہی میں کرائے تھے جس میں انھوں نے بعض پارٹی رہنماؤں کو حقائق کی بنیاد پر نااہل قرار دیا تھا مگر جسٹس وجیہہ الدین کا فیصلہ خود بانی پی ٹی آئی نے تسلیم نہیں کیا تھا کیونکہ نااہل رہنما بانی کے پسندیدہ تھے اور پارٹی کے بڑے ڈونر تھے جنھیں بانی ہر حال میں عہدوں پر رکھنا چاہتے تھے، اس لیے جسٹس وجیہہ الدین دل ہار کر پارٹی چھوڑ گئے اور بانی کے پسندیدہ بلامقابلہ عہدیدار بنا دیے گئے تھے اور اس پہلے الیکشن کے بعد پی ٹی آئی میں دوبارہ جمہوری الیکشن کرانے سے توبہ کر لی گئی تھی۔

2024کے انتخابات سے قبل بانی چیئرمین جیل میں تھے اور الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے پر پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہ دینے کا اعلان کیا تھا، جس پر مجبوری میں پشاور کے کسی نواحی علاقے میں نام نہاد عہدیدار منتخب کر لیے گئے جنھیں پارٹی میں کوئی جانتا نہ تھا مگر بانی چیئرمین کی مرضی کے مطابق نئے نام نہاد عہدیدار بلامقابلہ منتخب قرار دیے گئے، جس پر پارٹی کے اکبر ایس بابر جیسے بانی ارکان نے اعتراض کیا جس پر الیکشن کمیشن نے بھی پی ٹی آئی کے متنازعہ انٹرا پارٹی الیکشن تسلیم نہیں کیے اور انتخابی نشان نہیں دیا جس کی توثیق سپریم کورٹ نے بھی کی جو قانونی فیصلہ تھا مگر پی ٹی آئی نے تسلیم نہیں کیا اور نہ دوبارہ انتخابات کرائے مگر ان کی سیاست پھر بھی چل رہی ہے کہ ہمارے عہدیداروں کو الیکشن کمیشن کیوں تسلیم نہیں کر رہا۔

ہر پارٹی میں ایسے ہی نام نہاد الیکشن ہوتے ہیں اور اسی لیے اپنی نگرانی میں انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن اختیار مانگ رہا ہے تاکہ اس کی نگرانی میں الیکشن ہوں جو متنازعہ نہیں منصفانہ ہو سکیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انٹرا پارٹی انتخابات انٹرا پارٹی الیکشن الیکشن کمیشن سیاسی جماعت اور الیکشن تسلیم نہیں کی نگرانی پی ٹی آئی کے مطابق کا اعلان مسجد کے ہیں اور تھے اور کے لیے کے بعد ہے اور

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن