سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات نئے دور میں داخل، سرمایہ کاری کے لیے پُرعزم ہیں، سعودی شہزادہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
سعودی شہزادہ منصور بن محمد نے کہا ہے کہ ہم پنجاب میں سرمایہ کاری کے لیے پُرعزم ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔
پاک سعودی جوائنٹ بزنس کونسل کے وفد کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پنجاب کی زمین زرخیز ہے اور اس صوبے کے ساتھ شراکت داری ہمارے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ ہم پنجاب میں دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان آئی ٹی اور کھیلوں میں تعاون کے معاہدے
شہزادہ منصور بن محمد نے مزید کہاکہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ آئی ٹی، صحت اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں شراکت داری کا خواہاں ہے۔ پنجاب میں 10 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ زیر غور ہے، جب کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاحت کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے سعودی پاک جوائنٹ بزنس کونسل کے وفد کی اہم ملاقات۔۔۔
باہمی سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون کے فروغ پر تفصیلی گفتگو، سعودی وفد نے پنجاب کے سرمایہ کاری ماحول پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔۔۔ pic.
— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) October 11, 2025
اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہاکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہم سب کے لیے جان سے زیادہ مقدس ہیں، ان مقدس مقامات کی پاسبانی کی میزبانی پاکستان کے لیے ایک بڑے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے ایامِ جلاوطنی کے دوران میں نے کئی سال جدہ میں گزارے ہیں، اس لیے میں اعتماد سے کہہ سکتی ہوں کہ جدہ میرے لیے لاہور کی طرح ہی مانوس شہر ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات پوری مسلم دنیا کے لیے ایک مثال ہیں۔ سعودی عرب مسلم امہ میں ایک نمایاں اور محترم مقام رکھتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کو عوام کی جانب سے بے حد سراہا گیا ہے۔
مریم نواز نے مزید کہاکہ پنجاب حکومت ترقی کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے اور خادم الحرمین شریفین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سرمایہ کاروں کو بہترین سہولیات فراہم کر رہی ہے اور سعودی قیادت کے پاکستان پر اعتماد کرنے پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مکہ اور مدینہ کی حرمت ہر پاکستانی کے دل میں رچی بسی ہے، ان مقدس شہروں کی خدمت اور حفاظت کی ذمہ داری ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی اس برادر ملک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان سعودی عرب اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کاخیر مقدم
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاکہ پنجاب پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی ترقی میں سعودی سرمایہ کاروں کا کردار کلیدی ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی سرمایہ کاروں کو ’ون ونڈو‘ کے نظام کے تحت سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جب کہ صوبے میں زراعت، لائیو اسٹاک، صنعت کاری اور انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاکستان سعودی عرب تعلقات سرمایہ کاری مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان سعودی عرب تعلقات سرمایہ کاری مریم نواز وی نیوز سرمایہ کاری کے انہوں نے کہا پاکستان کے مریم نواز نے کہاکہ کے ساتھ ہے اور کے لیے
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں