سعودی عرب اور چین کی مدد سے پاکستان میں توانائی کے اہم منصوبوں کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
ایس آئی ایف سی کے تعاون سے توانائی کے شعبے میں انقلاب متوقع ہے جس میں جامع حکمت عملی کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایس آئی ایف سی کی معاونت سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے خودانحصاری کی راہ ہموار ہورہی ہے جبکہ گردشی قرضے پر قابو پانے کیلئے جامع حکمت عملی پر عمل درآمد اور پالیسی سطح پر اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔
سکھر میں پاور پراجیکٹ اور جنوبی سندھ میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کام جاری ہے۔ سعودی عرب اور چین کی مدد سے توانائی کے اہم منصوبوں ہائیڈرو اور سولر پروڈکشن کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب شنگھائی الیکٹرک کی تھر کول بلاک میں سرمایہ کاری اور براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپگریڈیشن شروع کردی گئی ہے اور ماڑی پٹرولیم، اٹک، وزیرستان اور دادو میں گیس کی نئے ذخائر دریافت اور توانائی میں خودکفالت کی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: توانائی کے
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔