Jasarat News:
2026-07-24@10:12:39 GMT

سہیل آفریدی نئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا منتخب

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

سہیل آفریدی نئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا منتخب

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور: سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے نئے وزیر اعلیٰ منتخب ہو گئے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت جاری ہے۔ اجلاس سے خطاب میں سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ انہیں عمران خان نے وزیر اعلیٰ نامزد کیا تھا اور جیسے ہی قائد نے استعفے کا کہا، انہوں نے فوراً عہدہ چھوڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری عمل کو مذاق نہ بنایا جائے، اب مزید زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی۔

علی امین گنڈا پور نے اپنی 19 ماہ کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت سنبھالی تو خزانے میں صرف 18 دن کی تنخواہوں کے برابر رقم موجود تھی، لیکن آج صوبائی خزانے میں 218 ارب روپے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو شاید یہ شکایت ہو کہ انہیں فنڈز نہیں ملے، لیکن عوام خوش ہیں کیونکہ وسائل براہ راست ان پر خرچ کیے گئے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی نہ صرف ان کے لیے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی قربانیاں دے رہے ہیں، اور وہ مکمل طور پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اپوزیشن کا بائیکاٹ

دوسری جانب، خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ اب تک منظور نہیں ہوا، اس لیے نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر نے علی امین کو وضاحت کے لیے طلب کیا ہے، اس لیے جلد بازی میں انتخاب کو متنازع نہ بنایا جائے۔ اپوزیشن نے اس عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزیر اعلی علی امین کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن