کراچی کے مختلف علاقوں میں مذہبی جماعت کے کارکنوں کی جانب سے احتجاج کے باعث شہر کے متعدد مقامات پر ٹریفک جام اور انٹرنیٹ سروس میں جزوی تعطل کی اطلاعات ہیں۔

پولیس کے مطابق نیو کراچی، پاور ہاؤس، انڈہ موڑ، سندھی ہوٹل اور فور کے چورنگی کے اطراف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین کی جانب سے بعض مقامات پر پتھراؤ اور جلاؤ گھیراؤ کی کوششیں بھی کی گئیں جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شیلنگ کی اور ہجوم کو منتشر کردیا۔

یہ بھی پڑھیے: مریدکے میں تصادم کے بعد ٹی ایل پی مظاہرین منتشر

ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ کے مطابق پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پا لیا ہے۔ نیو کراچی سندھی ہوٹل اور فور کے چورنگی کے اطراف ٹریفک بحال کر دی گئی ہے جبکہ احتجاج اور شرپسندی میں ملوث پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی ویسٹ نے مزید بتایا کہ ممکنہ احتجاج، پتھراؤ اور جلاؤ گھیراؤ کے خدشے کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات کر دی گئی ہے۔ اضافی نفری بھی طلب کر لی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے کے بعد کون سا احتجاج؟ خواجہ آصف کی ٹی ایل پی پر تنقید

پولیس حکام کے مطابق شہر کی مجموعی صورتحال قابو میں ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور غیر ضروری طور پر متاثرہ علاقوں کا رخ نہ کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

TLP KARACHI PROTEST احتجاج تحریک لبیک پاکستان ٹی ایل پی کراچی پولیس مظاہرہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تحریک لبیک پاکستان ٹی ایل پی کراچی پولیس مظاہرہ گئی ہے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی