الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے فلسطین کے لیے 24ویں امدادی قافلے کی روانگی
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
لاہور: وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر این ڈی ایم اے نے فلسطین کے لیے ایک اور امدادی کھیپ روانہ کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے 100 ٹن وزنی 24ویں امدادی کھیپ خصوصی پرواز کے ذریعے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے روانہ کی گئی۔
امدادی سامان میں آٹا، چاول، کوکنگ آئل، چنے، ڈبہ بند پھل، تیار کھانے اور راشن بیگز شامل ہیں۔ اب تک پاکستان کی جانب سے فلسطین کے لیے بھیجی جانے والی 24 امدادی کھیپوں کا مجموعی وزن 2327 ٹن تک پہنچ گیا ہے۔
روانگی کی تقریب میں این ڈی ایم اے، وزارتِ خارجہ، الخدمت فاؤنڈیشن اور حکومتی نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر حکام نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور عوام فلسطینی بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے امداد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔